.

حماس نے کیا پایا کیا کھویا؟

س

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
آج سے 4 برس قبل بھی اسرائیل نے غزہ پر حملہ کیا تھا اور بے حد خونریزی کی تھی اور زبردست تباہی پھیلائی تھی مگر اس وقت حماس یکہ وتنہا تھا اور مغربی کنارے پر فلسطین کی حکومت تھی، جو خود کو یاسر عرفات کا جانشین کہلاتے ہیں وہی فلسطین کے اصل مالک سمجھے جاتے تھے، عرب دنیا بالکل خاموش تماشائی تھی، مصر پر حسنی مبارک کی نیٹو نواز حکومت تھی، اس لیے اس نے اسرائیل کو بے لگام کردیا تھا اس کی وجہ سے غزہ کی وہ پٹی جس سے فلسطینی آسانی سے بارڈر پار کرتے تھے وہ جمال ناصر کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے آج تک بند ہے۔

امید تھی کہ اخوان المسلمین (Muslim Brotherhood) کے قائد محمد مرسی کی حکومت رفا ہ بارڈر سے پابندیاں ہٹا لے گی مگر غور کرنے کے بعد یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان حکومتوں کو اپنی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کرنی ہے۔ یہ جمہوری حکومتیں امریکی امداد کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتیں مگر ان حکومتوں کو محض اپنے آقا کو نہیں عوام کو بھی منہ دکھانا ہے اس لیے کچھ نہ کچھ حماس کی طرفداری بھی کرنی ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کو بھی مصر کی حکومت کو کچھ نہ کچھ کریڈٹ دلوانا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مصر میں کوئی مزید ایسی حکومت آجائے جو اسرائیل سے کیے گئے ماضی کے معاہدوں کو ختم کردے۔

اگر موجودہ جنگ پر گہری نظر ڈالی جائے تو پہلی مرتبہ ترکی بھی عرب ممالک کی آواز کے ساتھ آواز ملا رہا ہے ، اس کے علاوہ ہلیری کلنٹن نے بھی اس جنگ کے جلد خاتمے پر زور دیا ہے لہٰذا اس بات کا امکان ہے کہ یہ جنگ ایک ہفتے سے زائد نہیں چل سکتی تھی چنانچہ جنگ بندی ہوگئی۔ اسرائیل میں ان کے وزیر اعظم نیتن یاہو بھی اپنی پوزیشن ملک میں مستحکم کر رہے ہیں تاکہ مستقبل کے انتخابات میں عوام ان کے حق میں فیصلہ دیں، پھر ماضی کے مقابلے میں فلسطینی نسبتاً ماضی سے بہتر اسلحہ استعمال کر رہے ہیں اور انھوں نے ایسے راکٹ بھی داغے جو تلِ ابیب تک جا کر گرے ہیں ۔

مانا کہ اسرائیل نے ایسی بیٹریاں نصب کی ہیں جو فضا میں ہی میزائلوں کو ختم کردیتی ہیں مگر یہ صد فیصد کامیاب نہیں ہیں جس سے اسرائیل میں پہلی مرتبہ خوف و ہراس کی فضا ہے، اس جنگ میں گو کہ قطر ایک چھوٹی سی حکومت ہے مگر اس نے کھل کر اسرائیل کی مذمت کی ہے اور اس نے اس خطے میں فلسطینیوں کو باعزت زندگی گزارنے کی بات کی ہے۔ قطر کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ یہودی، عیسائی اور مسلمانوں کو انسانیت کے ناتے یکساں سمجھتے ہیں اور فلسطینیوں کے مسائل کا باعزت اور منصفانہ حل چاہتے ہیں اس خطے میں اسرائیلیوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ رفاہ بارڈر کھولنے پر ہرگز تیا رنہیں ہوں گے کیونکہ یہاں سے غیر ملکی اسلحہ اسمگل ہوتا ہے اور ایران اس میں ملوث ہے، ایسی صورت میں جب کہ شام کی حکومت کے خلاف بغاوت جاری ہے اور نیٹو کے ایک زبردست اتحادی فرانس نے باغیوں کی حمایت کھلم کھلا کردی ہے اگر اس جنگ کو طوالت دی گئی تو پھر شام میں بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ مشکل ہوگا اور لوگ فلسطین کی جنگ میں اُلجھ جائیں گے، غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد بان کی مون نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔

مسلم دنیا کے اکثر ملکوں نے حماس کے موقف کی حمایت کردی ہے اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حماس جس کو ماضی میں مغربی پروپیگنڈے کی وجہ سے ایک دہشت گرد گروہ سمجھا جاتا تھا اب ایک سیاسی اور عسکری تنظیم کا درجہ مل گیا اور پی ایل او (PLO) پر یہ تنظیم سبقت لے جانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ قاہرہ میں اب جو اجلاس ہوا۔ اس میں عرب لیگ، قطر، مصر، ترکی نے حماس کے لیڈروں سے نہ صرف ملاقات کی بلکہ جنگ بندی کے لیے حماس اور اسرائیل کے موقف کو سنا اور دونوں کو عالمی دباؤکا سامنا کرنا پڑا کچھ لو اورکچھ دو کی بنیاد پر سمجھوتہ ممکن ہے سمجھوتے میں تاخیر مسلسل ہورہی ہے، حالانکہ عالمی صورتحال میں اسرائیل علاقے میں تنہا رہ گیا ہے۔

ایک بات جو اس جنگ میں اور سامنے آئی ہے وہ یہ کہ عربوں کے مطلق العنان حکمران اس جنگ میں خاموش تماشائی ہیں اور ان کی توجہ ابھی بھی یہی ہے کہ مسلم امہ میں جو فقہی اختلافات ہیں ان کو نمایاں کیا جائے اور اسی بنیاد پر حکومتیں قائم کی جائیں۔ اس سے اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کو مضبوط کیا جائے اور اسرائیل کے اس ایجنڈے پر مسلم دنیا میں تشدد کی ایک لہر دوڑ گئی ہے یہاں تک کہ پاکستان میں بھی اس کے اثرات پھیلتے جارہیںہیں کیونکہ مضبوط اور متحد پاکستان اسرائیلی ایجنڈے کے لیے خطرہ ہے کیونکہ فقہی اختلافات ہونے کے باوجود جب مشترکہ دشمن سامنے ہوتا ہے تو عوامی رد عمل تو یقینا اسرائیل کے خلاف ہوتا ہے مگر رفتہ رفتہ امن کے حالات میں یہ برادرانہ رشتے جذبات ٹھنڈے ہونے کے بعد اکثریت پھر انتشار میں مبتلا ہوجاتی ہے یہ مسئلہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا ہے البتہ اس جنگ میں امریکا نے ظاہری طور پر اپنا دامن بچا رکھا ہے اور ہلیری کلنٹن اسرائیلی لیڈروں سے محو گفتگو ہیں حالانکہ موجودہ امریکی انتخابات میں نیتن یاہو نے بارک اوباما کی کھلم کھلا مخالفت کی تھی کیونکہ بقول ان کے ایران پر حملے کے لیے یہ بہترین وقت ہے جو اسرائیل کے لیے بدترین خطرہ ہے۔

وہ ایٹمی طاقت بننے کے قریب ہے اور وہ حماس اور حزب اللہ کا اتحادی ہے مگر اوباما نے اسرائیلی وزیراعظم کی بات پر کان نہ دھرا گوکہ انھوں نے اسرائیل کے دفاع پر انھی کی پرانی پالیسی سے اختلاف نہیں کیا کیونکہ امریکا کو اپنے طرز کی جمہوریت نافذ کرنے کے لیے دیگر عرب ملکوں میں بھی اپنا اثر و نفوذ بڑھانا ہے، مشرقی وسطیٰ کے لیے اب امریکا کو ازخود کوئی ایجنڈا روڈ میپ نہیں بنانا ہے امریکا کے جمہوری مسلم ممالک کے حکمران خود اس پالیسی پر عمل کرائیں گے۔

ابھی زیادہ عرصے کی بات نہیں، جنرل مشرف بھی اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کے حق میں تھے مگر سیاسی حالات اس طرح تبدیل ہوئے کہ وہ داخلی وجوہات کی بناء پر اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے، مگر پاکستانی حکومت نے فلسطینی مسئلے پر کوئی واضح پالیسی اختیار نہیں کی بلکہ ماضی کی زبانی مدد کے علاوہ کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا جیساکہ ایک مسلم ایٹمی طاقت کو اس مسئلے پر جو جرأت دکھانی چاہیے تھی۔ دور دور تک اس کا پتہ نہیں، پاکستان اپنے داخلی انتشار میں ہی بری طرح پھنس گیا ہے ،اگر غور کیا جائے تو یہ گمان یقین میں بدل جائے گا کہ اسرائیل کو جو خطہ ارض فلسطین میں دیا گیاہے وہ محض برطانیہ کی کاوشوں کا نتیجہ ہے بلکہ اسرائیلی لابی جو برطانیہ اور جرمنی میں سرگرم تھی اس کی حکمت عملی کانتیجہ ہے پہلے اسرائیل نے یہودیوں کی مملکت کا خواب پورا کیا پھر انھوں نے امریکا اور برطانیہ میں اپنی لابی (Lobby)کی گرفت مضبوط کی اور اپنے ملک کو توانا بنانے کے لیے سرگرم ہوگئے۔

خطہ ارض کے کونے کونے سے یہودی آباد ہوتے رہے خواہ وہ انگریزی، فرنچ، جرمن یا روسی زبان بولتے ہوں ان کی تہذیب و ثقافت کچھ ہی کیوں نہ ہو وہ مذہب کی بنیاد پر وحدت بنے ہوئے رہے اور یہودی ازم ہی ان کا فلسفہ رہا اور قومیت زبان ثقافت کو انھوں نے ترک کرکے عبرانی زبان کو ہی زندہ رکھا جب کہ زبان اور ثقافت کا عفریت مسلم ممالک ہیں نہ صرف زندہ کیا گیا بلکہ حکومتی سطح پر ان کی سرپرستی حکومتیں کر رہی ہیں لہٰذا مناقشے جنم لے رہے ہیں یا تو آبادی کے ساتھ معاشی اور سماجی انصاف کیا جاتا جو مسلم ممالک میں چند کے سوا ناپید ہے۔ اسرائیل اور پاکستان دنیا کی دو نظریاتی مملکتیں ہیں ایک نے خود کو ایک راستہ پر گامزن کر دیا اور ہر نسل، رنگ کے یہودیوں کو آزادی، مساوات اور جمہوریت سے نوازا۔

لہٰذا وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہے۔ ان دنوں جب کہ اسرائیل حماس کی جنگ جاری ہے دوسری جانب مغربی اتحادی شام کی حکومت کو گرانے میں مصروف ہیں اور 16 جماعتی اتحاد کی سرپرستی میں مصروف ہیں ترکی کی سرحدی پٹی کے قریب کردوں نے 120 ترکوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گوکہ وہ ایک ہی مذہب کے ماننے والے ہیں تقسیم در تقسیم کا عمل کیونکر مسلمان ریاستوں کو انتشار سے بچا سکتا ہے لہٰذا تقریباً 20 برسوں تک مسلم دنیا میں آمرانہ حکومتیں کامیابی سے چلتی رہیں ایسی صورت میں ،یہودی ریاست کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا اور ارض فلسطین لہو لہو ہے، ایران اور حماس گوکہ دو مختلف فقہی حقیقتیں ہیں مگر ان دونوں کا نظریاتی اتحاد قابل دید ہے، مگر ایران رفتہ رفتہ خود یکہ وہ تنہا رہ گیا ہے معاشی ناکہ بندی جلد یا بدیر ایران میں انتشار کا باعث بن سکتی ہے اس لیے مسلم امہ باہمی انتشار کی بدولت خود کشی کے راستے پر رواں دواں ہے۔ ایسی صورت میں کیونکر فلسطین کے لیے دیرپا حل نکل سکتا ہے ۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس
اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.