.

صدر مرسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے، اخوان کے دفاتر نذر آتش

اسکندریہ، اسیوط اور سویز میں مرسی کے حامی و مخالفین میں جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے بڑے شہروں میں صدر محمد مرسی کے جاری کردہ فرامین کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں جبکہ مشتعل مظاہرین نے اخوان المسلمون کے متعدد دفاتر کو نذر آتش کر دیا ہے۔ اپنے خلاف احتجاجی جلوسوں پر صدر کا کہنا ہے کہ مصر آزادی اور جمہوریت کے راستے پر گامزن ہے۔

قاہرہ کے مشہور تحریر چوک میں صدر مرسی کے ہزاروں مخالفین نے ان کے نئے آئینی اعلامیے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی ہے۔ صدر کے حامی اور ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کارکنان نے بھی ان کے حق میں صدارتی محل کے باہر مظاہرہ کیا ہے۔

پولیس نے تحریر چوک کے نزدیک مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے پھینکے ہیں۔ وزارت داخلہ کے نزدیک مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں اور ان میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والے نوجوانوں اور ان کے حامی، لبرل اور سیکولر گروپوں سے وابستہ افراد نے آزادی چوک میں صدر مرسی کے خلاف نماز جمعہ کے بعد مظاہرے میں شرکت کی ہے۔وہ صدر مرسی اور اخوان کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ صدرمرسی نئے فرامین کے بعد مطلق العنان حکمران بن گئے ہیں۔ وہ ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے تھے۔

صدر مرسی کے حامیوں اور اخوان کے کارکنان نے قاہرہ کے شمالی حصے میں واقع صدارتی محل کے باہر مظاہرہ کیا اور صدر کے حق میں نعرے بازی کی۔ان کا کہنا تھا کہ عوام صدر کے فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں۔ صدارتی محل کےباہر اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر مرسی نے کہا کہ مصر آزادی اور جمہوریت کے راستے پر گامزن ہے۔

ملک کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں مشتعل مظاہرین نے اخوان المسلمون اور انصاف اور آزادی پارٹی کے دفاتر کو نذر آتش کر دیا ہے۔ اسکندریہ کے علاوہ اسیوط میں بھی صدر مرسی اور حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاع ملی ہیں اور ان میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

مصر کے سرکاری ٹی وی کی اطلاع کے مطابق نہر سویز کے کنارے واقع شہروں سویز، اسماعیلیہ اور پورٹ سعید میں مظاہرین نے اخوان المسلمون کے سیاسی بازو آزادی اور انصاف پارٹی کے دفاتر کو نذرآتش کردیا۔مصر کے دوسرے شہروں میں بھی صدر مرسی کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئی ہیں اور ان کے مخالفین نے انھیں تمام اختیارات اپنی ذات میں مرتکز کرنے پر ''فرعون جدید'' قرار دیا ہے۔

مصری صدر کے معاونین کا کہنا ہے کہ وہ قوم سے خطاب کی تیاری کررہے ہیں جس میں وہ اپنے فیصلوں کا دفاع کریں گے۔ صدارتی ترجمان یاسر علی نے گذشتہ روز فرامین کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''صدر انقلاب کے تحفظ کے لیے کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں''۔

انصاف اور آزادی پارٹی کے ایک سنئیر عہدے دار جہاد حداد کا کہنا ہے کہ انقلاب کو بروئے کار آنے کے لیے مرسی کے حالیہ فیصلے ضروری تھے کیونکہ مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوث وزارت داخلہ کے اہلکاروں کے خلاف نئے سرے سے قانونی کارروائی کے لیے کوئی چارہ کار نہیں رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف ناقص تفتیش کی گئی ہے اور ان کے خلاف شواہد کو ضائع کر دیا گیا ہے یا انھیں چھپا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے اہلکاروں کو ان مقدمات میں بری کیا جا چکا ہے۔ اب ہم نے جو فیصلے کیے ہیں، یہ کوئی انتخاب نہیں بلکہ نظریہ ضرورت کے تحت کیے گئے ہیں۔یادرہے کہ سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ساڑھے آٹھ سو مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔