.

بارزانی بغداد سے اجازت کے بغیر بیرون سفر نہیں کر سکتے المالکی

مرکز کی اجازت کے بغیر کرد حکام کے بیرون ملک سفر پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کا کہنا ہے کہ کردستان صوبے کے گورنر مسعود بارزانی اور دیگر کرد حکام مرکزی حکومت سے پیشگی اجازت کے بغیر بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے۔

نوری المالکی کے کرد روزنامے 'ہولاتی' [شہری] میں شائع ہونے والے بیان کے بعد کردستان صوبے اور مرکز کے درمیان کرکوک، دیالی اور صلاح الدین جیسے علاقوں سے متعلق تنازعہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔

متنازعہ علاقوں میں سیکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں نوری المالکی کا کہنا تھا کہ اس تنازعے کے حل کی خاطر کابینہ نے اپنے اجلاس میں اتفاق کیا تھا کہ سن 2099 معاہدے پر عملدرآمد کر کے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے متنازعہ علاقوں میں عراقی فوج اور صوبائی پولیس کی مشترکہ گشت اور چیک پوسٹیں قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

مسٹر برزانی اس معاہدے پر عملدرآمد کے لئے تیار ہیں تاہم کرد ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ عراقی صدر جلال طالبانی کے ساتھ ملکر نوری المالکی کے خلاف عدم اعتماد کرانا چاہتے ہیں کیونکہ مؤخر الذکر کی پالیسیوں سے معاملات کے حل کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ اس سلسلے میں درپیش مشکلات یہ ہیں کہ ایران کے کردوں سے اچھے تعلقات ہیں لیکن تہران نوری المالکی کی بھی حمایت کرتا ہے اور فی الحال ان کی سیاسی بساط لپیٹنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

نوری المالکی کی کرد حکام کو بیرون ملک سفر کے لئے مرکزی حکومت سے اجازت لینے کی بڑھ اس لئے ناقابل عمل ہے کہ کردستان کے صدر مقام اربیل میں موجود ہوائی اڈا مرکزی حکومت کے کنٹرول میں نہیں، وہاں سے بیرون ملک سفر بآسانی کیا جا سکتا ہے۔ کردستان اور مرکز کے درمیان تناؤ کم کرنے کی خاطر صدری پارٹی کے سربراہ مقتدی الصدر پیشکش کر چکے ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے مسعود بارزانی اور نوری المالکی کو دینی مرکز نجف میں ایک کھانے پر مدعو کر رکھا ہے۔

المالکی کے مخالفین سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ان کے خلاف شدید تنقید کر رہے ہیں۔ کرد صوبے کی سیاسی قیادت کے ہم خیال روزنامہ 'المدی' کے ایڈیٹر سرمد الطائی نے نوری المالکی کو پاگل قرار دیتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ کردوں کے اگر اسرائیل سے تعلقات ہیں تو عراق بھی تل ابیب سے سفارتی تعلقات قائم کر لے۔

اربیل اور بغداد کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کرکوک میں 'دجلہ آپریشن فورس' کی تشکیل کے بعد مزید بڑھ گئی ہے۔ کردوں سے اس اقدام کے جواب میں موصل اور کرکوک میں ایسی ہی دو ٹاسک فورسسز کے قیام کا اعلان کر دیا۔ اس کے علاوہ کردستان اور عراق کے درمیان تیل کے ذخائر اور دیگر انتظامی امور پر بھی اختلافات تادیر چلے آ رہے ہیں۔