.

روسی شہریوں کے انخلا کی خاطر لڑاکا بحری جہاز غزہ روانہ

اسرائیل نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں شروع کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیل فوج نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے دو دن بعد ہی معاہدے کی خلاف ورزیاں شروع کر دی ہیں، جس کے بعد غزہ پر دوبارہ اسرائیلی جارحیت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ممکنہ جنگ کے خدشے کے پیش نظر روس نے علاقے سے اپنے شہریوں کے انخلاء میں مدد فراہم کرنے کے لئے بحری جنگی جہاز غزہ کے ساحل روانہ کر دیئے ہیں۔



روسی نیول حکام کے ذرائع نے سرکاری خبر رساں اداروں انٹرفیکس اور ریانووسٹی کو بتایا کہ ہائی کمان کے حکم پر بحر متوسطہ مشرق میں متمرکز بحری جنگی جہازوں کو غزہ کے ساحل کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ماسکو بحریہ کے حالیہ اقدام پہلے امریکا کا ایک بحری بیڑا اسرائیلی ساحل پر پہنچ چکا ہے۔



ادھر غزہ ایمرجنسی میڈیکل سروسز کے ترجمان ادھم ابو سلیمہ نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کو بتایا کہ گزشتہ روز جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں اسرائیلی فوج نے کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں پر فائرنگ کر دی جس سے ایک بیس سالہ فلسطینی شہید ہو گیا۔ بلا اشتعال فائرنگ کا یہ واقعہ جنگ بندی معاہدے کے بعد کیا گیا جسے حماس سمیت تمام فلسطینی حلقے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔



ترجمان نے بتایا کہ مشرقی خان یونس میں خزاعہ کے مقام پر صہیونی فوجیوں نے جمعہ کی شام بلا اشتعال فائرنگ شروع کر دی تھی جس سے انور عبدالھادی قدیح نامی نوجوان شہید اور سات دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ ترجمان کے مطابق زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔



درایں اثنا مقبوضہ مغربی کنارے میں حماس اور اسلامی جہاد کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ جمعہ اور ہفتے کو جاری رکھا۔ اب تک 55 افراد گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ محروسین میں حماس کے پارلیمانی بلاک 'اصلاح وتبدیلی' کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے قانون ساز کونسل کے پانچ ارکان بھی شامل ہیں۔