.

سکبدوش اٹارنی جنرل کا اپنی برطرفی کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان

'سیاسی انتقام کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے سبکدوش پراسیکیوٹر جنرل ایڈووکیٹ عبدالمجید محمود نے اپنی برطرفی کا فیصلہ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔



خیال رہے کہ مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے دو روز قبل چند اہم دستوری فیصلے کیے جن میں عبدالمجید محمود کو ان کے عہدے سے برخاست کرنے کے بعد نیا اٹارنی جنرل مقرر کر دیا تھا۔ صدارتی فرامین کے خلاف مخالف سیاسی حلقوں نے ملک گیر احتجاج شروع کر رکھا ہے۔



سابق پراسیکیوٹر جنرل ایڈووکیٹ عبدالمجید نے اخبار 'الاسبوع' سے بات کرتے ہوئے اپنی برخاستگی کو غیر قانونی اقدام قرار دیا۔ انہوں نے صدر کے دوسرے اقدامات کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر محمد مرسی کے فرامین جوڈیشل اتھارٹی کے وضع کردہ قواعد کے خلاف ہیں۔



ایک سوال کے جواب میں ایڈووکیٹ محمود نے کہا کہ میری برطرفی کی وجہ قانونی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نئی حکومت نے ان پر مظاہرین کے قتل، بدعنوانی اور انتخابات میں دھاندلی جیسے الزامات عائد کیے لیکن میں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔ یہی وہ اسباب ہیں جن کی آڑ میں مجھے عہدے سے ہٹایا گیا۔ بہ قول عبدالمجید صدر کے پاس اٹارنی جنرل کو اس کے عہدے سے ہٹانے کا اختیار نہیں ہے۔ اب میں اپنے حقوق کی جنگ عدالت ہی میں لڑوں گا۔



قبل ازیں قاہرہ ائیر پورٹ کے ذرائع نے ان خبروں کی تردید کی تھی کہ سابق اٹارنی جنرل ایڈووکیٹ عبدالمجید محمود بیرون ملک جانا چاہتے تھے لیکن انہیں روک دیا گیا۔ ہوائی اڈے کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ سابق پراسیکیوٹر جنرل کے بیرون ملک سفر پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی، وہ جب اور جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔



دو دن قبل بھی افواہ پھیلی تھی کہ سابق اسپیکر احمد فتحی سرور کو بھی بیرون ملک سفر سے روک دیا گیا تھا تاہم ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے اس افواہ کو بھی بے بنیاد قرار دیا تھا۔



مصر میں یہ موجودہ سیاسی کشمکش صدر مرسی کی جانب سے اہم اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کے فیصلے کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ سابق صدارتی امیدوار ڈاکٹر محمد البرادعی، عمرو موسیٰ، ایمن نور، حمدین الصباحی جیسے اہم سیاسی مخالفین نے صدر کے فیصلوں کو مسترد کر دیا ہے۔ ایوان صدر اور اپوزیشن کے درمیان تازہ تناؤ کے بعد ملک بھر میں صدر کے حامی اور مخالفین اپنے اپنے طور پر احتجاجی مظاہرے بھی کر رہے ہیں۔