.

شامی فوج کی دمشق میں 100 سکولوں پر بمباری

وزارت داخلہ کے اعلی عہدیدار کا اعلان بغاوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کی سرکاری فوج کی بمباری میں دمشق اور اس کے مضافات میں ابتک 100 پرائمری، مڈل اور ہائر اسکینڈری سکولوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ 'سانا الثورہ' نامی خبر رساں ادارے کے مطابق متعدد سکولوں کو فوجی بارکوں کے طور پر استعمال کر رہے جس کی وجہ سے ان میں تعلیمی سرگرمیاں معطل چلی آ رہی ہیں۔

ادھر شامی میڈیا سینٹر نے شامی وزارت داخلہ میں پلاننگ اور ریسرچ ونگ کے سربراہ بریگیڈئر جنرل محمود العلی کی بشار الاسد کے خلاف اعلان بغاوت کی خبر دی ہے۔

دمشق میدان جنگ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جیش الحر اور سرکاری فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کے جلو میں بشار الاسد کت وفادار فوجیوں نے التضامن اور الحجر الاسود کالونیوں پر گولا باری کا سلسلہ جاری رکھا۔ جنوبی دمشق کی جوبر کالونی سے سرکاری فوج اور جیش الحر کے جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ادھر جیش الحر نے دمشق ہوائی اڈے کے راستے میں انقلاب جنکشن پر سرکاری فوج کے ناکے کو نشانہ بنایا۔ شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مانیڑ کرنے والے نیٹ ورک نے گزشتہ روز مختلف واقعات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 73 بتائی ہے۔ ملہوکین کی بڑی تعداد حلب، دمشق اور اس کے نواح میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

انقلاب کوارڈی نیشن الائنس نے ائر فورس انٹلیجنس دفتر کے گرد شدید جھڑپوں کی اطلاع دی ہے۔ شام کے شمال مشرقی شہر الحسکہ کی المساکن کالونی میں واقع حکمران جماعت [بعث پارٹی] کے دفتر کے قریب شدید فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب انقلاب کوارڈی نیش الائنس ہی کے مطابق جیش الحر کے جنگجوؤں نے الطبقہ سے تشرین ڈیم کی طرف آنے والی شامی بحریہ کی تین جنگی کشتیوں کو روکا۔ یہ فلیٹ دریائے فرات عبور کر کے ڈیم کی جانب پیش قدمی کر رہا تھا تاہم جیش الحر کی فوری کارروائی کے بعد انہیں حلب کے مضافاتی علاقے کی جانب فرار پر مجبور کر دیا گیا۔

دمشق کے نواحی قصبے داریا اور معضمیہ الشام میں ناکافی طبی سہولیات کی وجہ سے طبی امداد فراہمی کی درخواست کے جواب میں فیلڈ ہسپتال اور ڈاکٹر متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں۔