.

مظاہرین قتل کے مقدمات دوبارہ نہیں کھلنے دوں گا وکیل استغاثہ

صدر مرسی کے فرامین کے خلاف احتجاج جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے سبکدوش پراسیکیوٹر جنرل ایڈووکیٹ عبدالمجید محمود نے کہا ہے کہ انقلاب کے دوران مظاہرین کے قتل کے مقدمات کی منصفانہ چھان بین ہو چکی ہے اور ان مقدمات کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت نہیں۔ "مظاہرین کے قتل کے ضمن ہونے والی تمام تحقیقات کا میں خود ذمہ دار ہوں"۔



عبدالمجید محمود کا کہنا تھا کہ عدالت کا کام لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ وہ جب تک پراسیکیوٹر جنرل رہے انہوں نے کسی سے ناانصافی نہیں ہونے دی۔ انقلاب سے قبل، ہنگاموں کے دوران اور اس کے بعد تمام مقدمات کو شفاف طریقے سے نمٹایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مظاہرین کے قتل، سابق حکمرانوں کی کرپشن، حکومتی عمال کی قانون شکنی یا دیگر الزامات سب کے بارے میں استغاثہ نے شفافیت کو یقینی بنایا۔ اپنی نگرانی میں تمام مقدمات کی شفاف تحقیقات کرائیں اور میں اس کی تمام ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔



خیال رہے کہ صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے جمعرات کے روز ایڈووکیٹ عبدالمجید محمود کو وکیل استغاثہ کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ صدر نے مظاہرین کے قتل کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے قتل کے مقدمات کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا تھا۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ہفتے کے روز صحافیوں کو جاری اپنے ایک بیان میں برطرف اٹارنی جنرل ایڈووکیٹ محمود نے کہا کہ عدلیہ کے بارے میں صدر کے نئے فرمان کی آئینی اور غیر آئینی حیثیت کے قطع نظر میں اسے عدلیہ کی آزادی پر حملہ سمجھتا ہوں۔ میں نے اپنا معاملہ بھی عدلیہ کے سپرد کر دیا ہے۔ وہ خود میری برطرفی کی آئینی حیثیت کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔



سابق پراسیکیوٹر جنرل نے بیان میں اپنی طرفی کا معاملہ اپیل کورٹ میں لے جانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ججز کلب کے اجلاس میں بھی اس معاملے پر بحث کی ہے، جس کے بعد طے پایا ہے کہ میری طرفی کے صدارتی حکم نامے کے خلاف اپیل کی جائے گی۔



دوسری جانب مصر کے معروف تحریر چوک میں ہزاروں افراد صدر محمد مرسی کے متنازعہ فیصلوں کے خلاف بطور احتجاج خیمہ زن ہیں۔ مظاہرین نے ملک کے کئی دوسرے شہروں میں بھی ریلیاں نکالیں اور صدر کے عدلیہ سے متعلق فیصلے کو غیر جمہوری اور عدلیہ کی آزادی کے منافی قرار دیا۔ اپوزیشن جماعت 'الوفد' کے رہنماؤں نے احتجاجی جلوس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک صدر عدلیہ کے بارے میں اپنے تمام فیصلے واپس نہیں لے لیتے اس وقت تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

دوسری جانب صدر محمد مرسی اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والے عناصر سابق صدر حسنی مبارک کی باقیات ہیں اور وہ ملک میں انقلاب کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ قاہرہ میں صدر مرسی کے حامیوں نے بھی جلوس نکالے اور صدارتی فیصلوں کے حق میں نعرے بازی کی۔