.

نیوکلیئر فری مشرق وسطی کانفرنس منسوخ کر دی گئی

'خطے میں کانفرنس کی شرائط پر اتفاق نہیں ہو سکا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مشرق وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے سے متعلق کانفرنس خطے کی موجودہ صورتحال اور متعلقہ ممالک کے درمیان عدم اتفاق کے باعث منسوخ کر دی گئی ہے۔ یہ کانفرنس دسمبر کے مہینے میں ہلسنکی ہونا تھا۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے بتایا کہ خطے کے ملک کانفرنس کے انعقاد سے متعلق شرائط پر متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا سمجھتا ہے کہ خطے کے ملکوں کے درمیان علاقائی امن اور اسلحہ کنڑول کرنے کے بارے میں بہت زیادہ اختلافات ہیں۔

ان مختلف نقطہ ہائے نظر کو خطے کے ممالک مشترکہ ذمہ داری اور باہمی اتفاق سے ہی ختم کر سکتے ہیں۔ کسی بیرونی ملک کے لئے ایسی سوچ نافذ کرنا بھی ممکن نہیں اور نہ ہی اس فیصلے کے نتائج لانا کسی کے بس میں ہے۔

انہوں نے بالواسطہ طور پر اسرائیل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے لئے ایسی کانفرنس کی حمایت ممکن نہیں کہ جس سے خطے کا کوئی ملک خود 'نکو' سمجھتے ہوئے دباؤ میں محسوس کرے۔

ایران نے ہلسنکی کانفرنس میں شرکت پر حال ہی میں رضامندی ظاہر کی تھی۔ اس امر کا اعلان بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی میں تہران کے سفیر نے کیا تھا۔ بروکسلز سے ٹیلی فون پر خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے علی اصغر سلطانیہ نے بتایا کہ "اسلامی جمہوریہ ایران نے دسمبر میں ہلسنکی میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کر لیا ہے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس معاملے کے بارے میں انتہائی سنجیدہ ہیں اور اسی لئے ہم سرگرمی سے اس کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

یاد رہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں کو شبہ ہے کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار بنا رہا ہے، تاہم تہران اس الزام کی مسلسل تردید کرتا چلا آ رہا ہے۔ تہران نے گزشتہ برس اسی موضوع پر جینوا میں ہونے والی کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا۔

ایران نے کانفرنس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ جب تک مشرق وسطی کی واحد نیوکلیئر پاور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے [این پی ٹی] پر دستخط نہیں کرتا اس وقت تک ایسی ہر کوشش غیر مفید رہے گی۔ تہران، اس معاہدے سے کئی برس قبل دستخط کر چکا ہے۔