.

اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تو ہزاروں راکٹ برسا دیں گے حسن نصراللہ

صہیونی ریاست کا ہمیں دہشت زدہ کرنے کا دور لد گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ نے اسرائیل کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے لبنان پر حملہ کیا تو جواب میں اس پر ہزاروں راکٹ برسا دیے جائیں گے۔ انھوں نے ایران اور فلسطینی مزاحمت کی حمایت کا بھی اعادہ کیا ہے۔

شیخ حسن نصراللہ اتوار کو یوم عاشور کے موقع پر بیروت کے جنوبی علاقے میں اپنے ہزاروں پیروکاروں سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کی یہ تقریر حزب اللہ کے المنار ٹی وی سے نشر کی گئی ہے اور اسٹیڈیم میں لگی بڑی بڑی سکرینوں سے بھی انھیں تقریر کرتے ہوئے دکھایا جا رہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ''غزہ کی پٹی اور اس کے آس پاس کے علاقے میں حالیہ تنازعہ فلسطینی مزاحمت کی ایک عظیم کامیابی تھی''۔ واضح رہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی ایک ہفتے تک جاری رہی جارحیت میں ایک سو چھیاسٹھ فلسطینی شہید اور صرف چھے اسرائیلی مارے گئے تھے۔

لبنانی تنظیم کے سربراہ نے کہا کہ ''اسرائیل فجر پنجم میزائلوں سے لرز اٹھا تھا۔ اب اگر وہ لبنان پر حملہ آور ہوتا ہے تو وہ تل ابیب اور اس سے آگے کے علاقے پر فائر کیے جانے والے ہزاروں راکٹوں کو کیسے برداشت کر سکے گا''۔

لبنان کی طاقتور عسکری قوت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ''اللہ کے بعد غزہ کا جس نے دفاع کیا ہے، وہ مزاحمت کی قوت ہے، اس کے عوام، اس کے ہتھیار اور اس کے راکٹ ہیں''۔

انھوں نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ غزہ کے مجاہدین تو اپنے جغرافیے کی وجہ سے اپنے علاقے تک ہی محدود رہنے پر مجبور تھے لیکن ہمارے ساتھ جنگ پورے مقبوضہ فلسطین، لبنان سے اردن کی سرحد تک اور وہاں سے بحیرہ احمر تک اور اسرائیل کے شمالی علاقے کیریات شمونا سے جنوبی علاقے ایلات تک لڑی جائے گی''۔

شیخ حسن نصراللہ نے اپنی جماعت کے اتحادی ملک ایران کا بھی اپنی تقریر میں دفاع کیا اور کہا کہ ''روز بروز یہ بات ثابت ہوتی جا رہی ہے کہ ایران عربوں اور مسلمانوں کا ایک اتحادی ہے اور اس امر کی غزہ میں حالیہ کشیدگی اور اس سے پہلے لبنان میں بھی تصدیق ہوئی تھی''۔

انھوں نے کہا کہ ''بعض عرب اور اسلامی ممالک اسرائیل کو دوستی کی پیش کش کر رہے ہیں اور ایران کو اپنا دشمن خیال کر رہے ہیں لیکن اسرائیل عرب اور مسلم دنیا میں اپنے دوستوں کی حمایت نہیں کرتا''۔ ان کا اشارہ بعض خلیجی ممالک کی جانب تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ''اسرائیل کی جانب سے ہمیں دہشت زدہ کرنے کا وقت اب لد چکا ہے''۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے 2006ء میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے نام پر لبنان پر حملہ کیا تھا اور اس کے بعد لڑی گئی چونتیس روزہ جنگ کے دوران حزب اللہ کے جنگجوؤں نے اسرائیل کی جانب چار ہزار سے زیادہ راکٹ فائر کیے تھے۔

اس جنگ میں لبنان میں بارہ سو سے زیادہ شہری شہید ہوئے تھے اور حزب اللہ کے راکٹ اور مزائل حملوں میں ایک سو ساٹھ اسرائیلی مارے گئے تھے۔ ان میں زیادہ تر فوجی تھے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت حزب اللہ کے پاس پچاس ہزار سے زیادہ راکٹ اور میزائل موجود ہیں اور ان میں سے بعض تل ابیب تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔