.

عراق عاشورہ کی رسومات میں مذہب اور سیاست ساتھ ساتھ

زائرین کے صدر اور وزیر اعظم سمیت ارباب اقتدار کے خلاف نعرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق میں نواسۂ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے یوم شہادت کی مناسبت سے رسومات اور تقریبات کا سلسلہ جاری ہے اور آج اتوار کو بھی شیعہ زائرین جنوبی شہر کربلا میں ان کے روضے پر حاضری دے رہے ہیں۔

اس مرتبہ عراق میں عاشورہ کی رسومات کے دوران ایک نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے اور اہل تشیع نے اپنے جلوسوں میں پہلی مرتبہ سیاسی نعرے بازی بھی کی ہے اور انھوں نے ملک کے سیاست دانوں کی مذمت کی ہے۔

کربلا اور عراق کے دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں اہل تشیع سید الشہداء اور ان کے رفقاء کی یاد میں سینہ کوبی کرتے ہوئے ان کے روضے کی جانب رواں دواں تھے۔ انھوں نے سیاہ ماتمی لباس زیب تن کر رکھے تھے اور بعض زنجیر زنی کر رہے تھے۔

وہ حضرت حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ''ہم آپ کے ساتھ ہیں'' لیکن اس کے ساتھ وہ سیاسی نعرے بازی بھی کر رہے تھے۔ وہ عراقی وزیر اعظم، پارلیمان کے اسپیکر، صدر جلال طالبانی کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ان میں سے ہر کوئی عہدوں کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور لوگوں کے حصے میں صعوبتیں اور مشکلات ہی آ رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مالیاتی کرپشن کے اثرات دہشت گردی کی طرح کے ہیں اور ہمارے لیڈر اوپر سے نیچے تک بدعنوان ہیں۔ کربلا میں یوم عاشور کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ شہر کے شمالی، جنوبی اور مشرقی داخلی راستوں پر تیس ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے اور اسی وجہ سے ماضی کی طرح کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

کربلا کے گورنر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتوار تک حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے روضے پر آنے والے کی زائرین کی تعداد تیس لاکھ کے لگ بھگ ہو جائے گی۔ عمال الدین الحر نے مزید بتایا کہ اس وقت کربلا میں بیس لاکھ زائرین موجود ہیں اور ان میں دو لاکھ دوسرے ممالک سے آئے ہیں۔