.

مالکی نے قائمقام عراقی وزیر دفاع کی چھٹی کرانے کا فیصلہ کر لیا

'روسی اسلحہ ڈیل میں سعدون الدلیمی کا کردار مشکوک تھا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراقی وزیر اعظم کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ نوری المالکی روس سے اسلحہ خریداری کی متنازعہ ڈیل میں مبینہ بدعنوانی کے شبہے میں قائمقام وزیر دفاع سعدون الدلیمی کو ان کے عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنے ذرائع سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ نوری المالکی وزارت دفاع کے اعلی افسروں اور حکومتی ترجمان علی الدباغ کی مبینہ بدعنوانی سے متعلق پارلیمنٹ کی تحقیقاتی کمیٹی کے نتیجے کا انتظار کر رہے ہیں۔

یاد رہے عراقی حکومت نے بدعنوانی کے شبہات کی وجہ سے روس کے ساتھ چار اعشاریہ دو ارب ڈالر کا اسلحہ خریدنے کا معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔ وزیرِ اعظم نوری المالکی نےاس معاہدے سے متعلق تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ معابدہ گزشتہ ماہ اکتوبر میں ہی طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت عراق کو روس سے جنگی ہیلی کاپٹر اور میزائل خریدنا تھے۔ امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد سے عراق نے اپنی فوج کی از سر نو تعمیر شروع کر رکھی ہے۔

عراقی وزیر اعظم کے ترجمان نے سنیچر کے روز اسلحے کی خرید کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہ وزیر اعظم نوری المالکی جب روس کے اپنے دورے سے واپس آئے تو انہیں اس کے معاہدے میں بدعنوانی کا شبہہ ہوا تھا اس لیے انہوں نے اس پورے معاہدے کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

روس کی جانب سے اسلحہ کی خریداری کے معاہدے کی منسوخی کے حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ روس صدام حسین کے زمانے میں عراق کو اسلحہ فراہم کرنے والا اہم ملک تھا۔