.

مصری اپوزیشن کا مل کر حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان

صدر محمد مُرسی سے مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ڈاکٹر محمد مرسی کے نئے دستوری اعلان اور لامحدود اختیارات کے حصول نے مصر میں بائیں بازو کے سیکولر طبقات کو باہم متحد کر دیا ہے۔ سابق صدارتی امیدواروں ڈاکٹر محمد البرادعی، عمرو موسیٰ اور حمدین الصباحی نے مل کر حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔

حکومت کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک کا اصل مقصد ملک میں جمہوریت کا قیام اور استحکام ہے، وہ ملک میں عوام کو ساتھ لے کر اس وقت تک تحریک جاری رکھیں گے جب تک حقیقی جمہوریت قائم نہیں ہو جاتی۔ انہوں نے صدر ڈاکٹر محمد مرسی سے مذاکرات سے بھی انکار کر دیا ہے۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بائیں بازو کے رہنماؤں نے خود کو ملک کی متبادل نمائندہ قیادت کے طور پر پیش کرنے کے لیے باضابطہ طور پر ایک نیا اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ حکومت مخالف تحریک کو زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔



ہفتے کے روز قاہرہ میں اخوان المسلمون کے ایک منحرف لیڈر اور سابق صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبدالمنعم ابوالفتوح کی زیر صدارت اپوزیشن کا اجلاس ہوا، جس میں عمرو موسیٰ، البرادعی، حمدین الصباحی، سید البدوی سمیت کئی سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وہ حکومت کے خلاف پرامن تحریک جاری رکھیں گے اور صدر محمد مرسی سے مذاکرات نہیں کئے جائیں گے۔ اجلاس کے شرکاء نے صدر کی جانب سے اضافی اختیارات کے حصول کے فیصلے کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام اضافی اختیارات سے دستبردار ہو جائیں۔



اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ وہ موجودہ حالات میں عدلیہ کے ساتھ ہیں۔ صدر نے عدالتی اختیارات بھی اپنے پاس رکھ لیے ہیں۔ عوام صدر کے اس اقدام کو کسی صورت میں تسلیم نہیں کریں گے۔ اجلاس میں سابق پراسیکیوٹر جنرل ایڈووکیٹ عبدالمجید محمود کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کی بھی شدید مذمت کی گئی اور ان کی عہدے پر بحالی تک تحریک چلانے کا بھی اعلان کیا گیا۔ قاہرہ میں ہوئے اپوزیشن کے اجلاس میں مجموعی طور پر ایک درجن کے قریب سیاسی اور انقلابی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ حکومت کے خلاف اپوزیشن کا یہ پہلا متحدہ اجلاس ہے۔