.

یو این میں فلسطینی ریاست کا درجہ بڑھانے کی نئی کوشش، محمود عباس پُراعتماد

تمام فلسطینی دھڑوں اور بیشتر ممالک کی حمایت کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کا درجہ بڑھانے کے لیے وہ اپنی نئی کوشش کے حوالے سے پُراعتماد ہیں۔ وہ اس ضمن میں انتیس نومبر کو اقوام متحدہ میں نئی درخواست پیش کریں گے۔

انھوں نے اتوار کو مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں اپنے سیکڑوں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم اقوام متحدہ میں مکمل اعتماد کے ساتھ جا رہے ہیں۔ہم اپنا حق لے کر رہیں گے کیونکہ آپ ہمارے ساتھ ہیں''۔ ان کا اشارہ ریلی میں شریک اپنے حامیوں کی جانب تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہم صرف اس امن کے لیے کہہ رہے ہیں جس پر عالمی برادری نے اتفاق کیا ہے۔ اس سے ہمیں مشرقی القدس دارالحکومت کے ساتھ ریاست حاصل ہو جائے گی۔ اس کے بغیر امن کی کوئی امید نہیں ہے''۔

محمود عباس اقوام متحدہ سے فلسطین کا درجہ مبصر سے مبصر ریاست تک بڑھانے کے لیے رجوع کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں فلسطین کے تمام سیاسی دھڑوں اور اقوام متحدہ کے بیشتر ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ ان کے بہ قول یہ ممالک انصاف اور امن کے حامی ہیں۔

گذشتہ ہفتے غزہ کی حکمراں جماعت حماس نے فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کی اس رپورٹ کی تردید کی تھی کہ وزیر اعظم اسماعیل ہنئیہ نے صدر محمود عباس کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کا درجہ بڑھانے کی کوششوں میں اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

تاہم محمود عباس کا کہنا ہے کہ ''ان کی جماعت فتح اور حماس کے درمیان سیاسی اختلافات کی خلیج کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے''۔ ''آج ہم اقوام متحدہ میں جا رہے ہیں۔ پھر مفاہمت کی کوشش کی جائے گی اور اس کے بعد ہم اپنی ریاست کے قیام کے لیے کوشاں ہوں گے''۔ ان کا کہنا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا فلسطینی ریاست کو یک طرفہ طور پر اقوام متحدہ سے تسلیم کرانے یا اس کا درجہ بڑھانے کی کوششوں کی مخالفت کرتا چلا آ رہا ہے اور وہ سلامتی کونسل میں فلسطینی درخواست کو ویٹو کرنے کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔ اس تناظر میں اگر فلسطینی صدر جنرل اسمبلی سے مکمل رکنیت کے لیے رجوع کرتے ہیں تو دو تہائی اکثریت سے ان کی درخواست کی منظوری کی صورت میں فلسطین کا درجہ مبصر سے بڑھ کر غیر ریاستی رکن کا ہو جائے گا۔

امریکا یورپی حکومتوں کو خبردار کر چکا ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کا درجہ بڑھانے کے لیے کسی بھی کوشش کی حمایت سے گریز کریں۔ امریکا نے ماضی میں فلسطینی اتھارٹی کو بھی انتباہ کیا تھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرانے کے منفی مضمرات ہو سکتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست صرف اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے نتیجے ہی میں قائم کی جا سکتی ہے۔