.

دمشق کی جانب باغیوں کی پیش قدمی، حلب میں تشرین ڈیم پر قبضہ

دارالحکومت اور مضافات میں 117 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام میں جیش الحر نے دارالحکومت دمشق سے ملحقہ اہم شہر القنیطرہ میں سرکاری فورسز کی کئی چوکیوں کو تباہ کرنے کےبعد شہر میں البعث کالونی پر قبضہ کر لیا ہے اور اس کے آس پاس موجود سیکیورٹی فورسز کی چوکیوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ باغیوں کی القنیطرہ پر قبضے میں کامیابی دارالحکومت کی طرف پیش قدمی کے لیے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔



جیش الحر کے ذرائع کے مطابق القنیطرۃ میں گذشتہ دو روز سے گھمسان کی لڑائی جاری تھی۔ دونوں اطراف سے بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق دمشق میں فلسطینیوں کے مہاجر کیمپ یرموک میں بھی فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔



باغی فورسز نے حلب میں دریائے فرات پر بنائے تشرین ڈیم پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے اور ڈیم پر بنائے گئے ہائیڈل پاور پراجیکٹ کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ حال ہی میں سرکاری فوج نے ڈیم کو ایک اڈے میں تبدیل کر دیا تھا اور وہاں پر بڑی تعداد میں فوج اور اسلحہ منتقل کیا گیا تھا۔



درایں اثناء انقلابی کمیٹیوں کی جانب سے جاری اطلاعات کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دمشق اور اس کے مضافات میں لڑائی میں کم سے کم ایک سو سترہ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ دارالحکومت دمشق میں العباسیین کالونی میں باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان لڑائی میں درجنوں افراد مارے گئے۔ سرکاری فوج نے دمشق میں العسالی کالونی میں بھی باغیوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی ہے۔