.

شام کے علاقے سے گولان کی پہاڑیوں پر ایک مرتبہ پھر فائرنگ

شامی باغیوں کا دریائے فرات پر واقع ڈیم پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے علاقے سے سوموار کو علی الصباح اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں کی جانب ایک مرتبہ پھر فائرنگ کی گئی ہے لیکن اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اسرائیلی فوج کی خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ ''گولان کی پہاڑیوں پر سکیورٹی باڑھ کے ساتھ ایک فوجی گاڑی کے نزدیک گولیاں گری ہیں لیکن اس کے جواب میں وہاں موجود صہیونی فوجیوں نے شام کی جانب کوئی فائرنگ نہیں کی''۔

گولان کی پہاڑیوں اور اس کے ساتھ واقع شامی علاقے میں اس ماہ کے آغاز سے کشیدگی پائی جا رہی ہے اور اس واقعہ سے پہلے بھی شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کے دوران فائر کیے گئے گولے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے پر جا کر گرے تھے۔ اسرائیلی فوج نے ان کے جواب میں شامی علاقے کی جانب براہ راست فائرنگ کی تھی۔

واضح رہے کہ تب صہیونی فوج نے 1973ء کی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ گولان کی پہاڑیوں سے شامی علاقے کی جانب فائرنگ کی تھی اور اس علاقے میں قریباً تیس سال کے بعد یہ اس کی پہلی فوجی سرگرمی تھی۔

گولان کی پہاڑیوں کے نزدیک واقع دو دیہات بئیر عجم اور آل بوریخاح میں سوموار ہی کو شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں دو جنگجو مارے گئے ہیں۔

درایں اثناء شام کے شمالی علاقے میں باغی جنگجوؤں نے دریائے فرات پر واقع ایک ڈیم پر قبضہ کر لیا ہے۔ انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کے مطابق فوجی وردی میں ملبوس دس بارہ جنگجو رات کے وقت صوبہ حلب اور الرقاع کے درمیان واقع تشرین ڈیم پر پیدل چل رہے ہیں اور ان میں سے ایک شخص تشرین ڈیم پر جیش الحر کے قبضے کا دعویٰ کر رہا ہے۔

اس ویڈیو کے مصدقہ ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی لیکن لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے ڈیم پر باغی جنگجوؤں کے قبضے کی اطلاع دی ہے۔

آبزرویٹری نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ شام کی سرکاری فوج دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع قصبے اربعین میں حکومت مخالفین کے خلاف کارروائی کر رہی ہے اور کی فائرنگ سے ایک ہی خاندان کے دو افراد مارے گئے ہیں۔ شامی باغیوں نے گذشتہ روز دمشق کے نواح میں واقع ایک فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا تھا۔