.

محمود عباس فلسطین کی درخواست پیش کرنے نیویارک روانہ

یو این میں فلسطین کا درجہ بڑھانے کے لیے حماس کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس آج سوموار کو نیویارک روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ فلسطینی اتھارٹی کا درجہ بڑھا کر غیر ریاست مبصر کا بڑھانے کے لیے درخواست دیں گے۔

محمود عباس نے رام اللہ سے روانہ ہونے سے قبل کہا کہ ''میں بین الاقوامی سطح پر قابل قبول امن کی تلاش کے لیے اقوام متحدہ میں جارہا ہوں تاکہ بیت المقدس دارالحکومت کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جاسکے''۔انھوں نے کہا کہ وہ اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی اسیروں کی رہائی کے لیے بھی اقدامات کریں گے۔

فلسطینی صدر کا کہنا ہے کہ اسرائیل اگر 1967ء کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں کو تسلیم کرلے تو وہ اس کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کو تیار ہیں لیکن انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم ایسا کرنے سے انکار کرچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کا درجہ بڑھانے کے لیے وہ اپنی نئی کوشش کے حوالے سے پُراعتماد ہیں۔وہ اس ضمن میں انتیس نومبر جمعرات کو اقوام متحدہ میں نئی درخواست پیش کریں گے لیکن امریکااور یورپی یونین کے بعض رکن ممالک ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔

محمود عباس نے اتوار کو رام اللہ میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم صرف اس امن کے لیے کہہ رہے ہیں جس پر عالمی برادری نے اتفاق کیا ہے۔اس سے ہمیں مشرقی القدس دارالحکومت کے ساتھ ریاست حاصل ہوجائے گی۔اس کے بغیر امن کی کوئی امید نہیں ہے''۔ان کا کہنا تھا کہ انھیں فلسطین کے تمام سیاسی دھڑوں اور اقوام متحدہ کے بیشتر ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ان کے بہ قول یہ ممالک انصاف اور امن کے حامی ہیں۔

درایں اثناء غزہ کی حکمران فلسطینی جماعت حماس کے جلا وطن رہ نما خالد مشعل نے صدر محمود عباس کو اقوام متحدہ میں فلسطین کا درجہ بڑھانے کے لیے ان کی کوششوں میں اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔انھوں نے فلسطینی صدر کو سوموار کو ٹیلی فون کیا اور کہا کہ حماس فلسطین کا درجہ بڑھانے کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کا خیر مقدم کرتی ہے۔

تاہم انھوں نے اور حماس کے سیاسی شعبے کے ایک اور سرکردہ رکن عزت الرشیق نے کہا کہ وہ اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی انھوں نے خبردار کیا کہ اس عمل میں فلسطین کے حقوق سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔یہ اقدام قومی حکمت عملی اور ویژن کے تناظر میں ہونا چاہیے اور فلسطینی عوام کی طاقت کے عناصر مزاحمت وغیرہ کو ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔

گذشتہ ہفتے غزہ کی حکمراں جماعت حماس نے فلسطین کی سرکاری خبررساں ایجنسی وفا کی اس رپورٹ کی تردید کی تھی کہ وزیراعظم اسماعیل ہنئیہ نے صدر محمود عباس کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کا درجہ بڑھانے کی کوششوں میں اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

تاہم محمود عباس کا کہنا ہے کہ ''ان کی جماعت فتح اور حماس کے درمیان سیاسی اختلافات کی خلیج کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے''۔''آج ہم اقوام متحدہ میں جارہے ہیں۔پھر مفاہمت کی کوشش کی جائے گی اور اس کے بعد ہم اپنی ریاست کے قیام کے لیے کوشاں ہوں گے''۔ان کا کہنا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا فلسطینی ریاست کو یک طرفہ طور پر اقوام متحدہ سے تسلیم کرانے یا اس کا درجہ بڑھانے کی کوششوں کی مخالفت کرتا چلا آرہا ہے۔اس تناظر میں اگر فلسطینی صدر جنرل اسمبلی سے مکمل رکنیت کے لیے رجوع کرتے ہیں تو دوتہائی اکثریت سے ان کی درخواست کی منظوری کی صورت میں فلسطین کا درجہ مبصر سے بڑھ کر غیر ریاستی رکن کا ہو جائے گا۔

تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ اگر فلسطینی اتھارٹی کا درجہ بڑھ جاتا ہے تو پھر فلسطینی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والے مباحث میں حصہ لے سکیں گے اور وہ اقوام متحدہ کے تحت اداروں اور ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی )کے بھی رکن بن سکتے ہیں۔اگر وہ آئی سی سی کے قیام کے لیے روم معاہدے پر دستخط کردیتے ہیں تو وہ مستقبل میں اس عدالت میں اسرائیلی قبضے کو چیلنج کرسکیں گے۔