.

مصر اخوان کے دفتر پر حملے میں نوجوان لڑکا ہلاک، بیسیوں زخمی

صدرمرسی کے حامیوں اور مخالفین کے مظاہرے جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں صدر محمد مرسی کے جاری کردہ متنازعہ آئینی اعلامیے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور نیل ڈیلٹا کے علاقے میں اخوان المسلمون کے ایک دفتر کے باہر جھڑپ میں ایک کم سن نوجوان جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

اخوان کے ایک مقامی لیڈر جمال حشمت نے بتایا ہے کہ تشدد کا واقعہ نیل ڈیلٹا کے علاقے میں واقع قصبے ضمان حور میں پیش آیا ہے جہاں جماعت کے دفتر کے باہر حکومت مخالفین کے ساتھ جھڑپ میں پندرہ سالہ نوجوان اسلام فتحی محمد جان کی بازی ہار گیا۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ اس قصبے میں صدر محمد مرسی کے مخالفین ان کی جانب سے جاری کردہ حالیہ صدارتی حکم نامے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، وہ جب اخوان کے دفتر کے سامنے پہنچے تو وہاں ان کی صدر کے حامیوں سے لڑائی شروع ہو گئی۔ متحارب گروپوں نے ایک دوسرے پر لاٹھیوں، پٹرول بموں اور پتھروں کا آزادانہ استعمال کیا ہے۔

شہر کے ایک اسپتال میں لڑائی میں زخمی دس افراد کو لایا گیا ہے لیکن اخوان کا کہنا ہے کہ ان کے دفتر پر ٹھگوں کے حملے میں ساٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جماعت نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پولیس قصبے میں بالکل بھی موجود نہیں تھی اور ٹھگوں نے بڑی آزادی سے ان کے دفاتر پر حملہ کیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس قصبے میں گذشتہ تین روز سے صدر مرسی کے حامی اسلام پسندوں اور ان کے مخالفین کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں اور ان کے مخالفین اخوان کے دفاتر پر حملوں کی کوشش کررہے تھے۔

صدر محمد مرسی نے اتوار کو ایک بیان میں اپنے جاری کردہ حکم ناموں سے ملک میں پیدا ہونے والے بحران کو فرو کرنے کا اشارہ دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے فرامین عارضی نوعیت کے ہیں اور وہ سیاسی قوتوں کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں۔'' سابق حکومت اور عبوری دور میں بدعنوانیوں کے علاوہ دوسرے جرائم کے ذمے داروں کے مواخذے کے لیے یہ اعلامیہ ضروری تھا''۔

انھوں نے یہ اعلامیہ گذشتہ جمعرات کو جاری کیا تھا اور اس کے بعد سے ملک کے مختلف شہروں میں اخوان کے سیاسی بازو آزادی اور انصاف پارٹی کے متعدد دفاتر نذر آتش کیے جا چکے ہیں۔

اخوان المسلمون کی اپیل پر صدر مرسی کے ہزاروں حامیوں نے اتوار کی رات قاہرہ میں ایک مسجد کے باہر ریلی نکالی تھی اور دوسرے شہروں میں بھی مظاہرے کیے تھے۔ اخوان نے اپنے حامیوں سے منگل کو قاہرہ میں ملین مارچ کی اپیل کی ہے اور اس موقع پر ان کے مخالفین نے بھی احتجاجی مظاہرے منظم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔