.

مصر میں سرکردہ لبرل شخصیات کو قتل کیا جا سکتا ہے

دسمبر میں حکومت مخالفین پر قاتلانہ حملوں کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے ایک سابق جنگجو گروہ الجماعۃ الاسلامیہ کے ایک سنئیر عہدے دار ناجح ابراہیم کا کہنا ہے کہ صدر محمد مرسی کے آئینی اعلامیے کی مخالفت کرنے والے لبرل سیاست دانوں اور دانشوروں پر دسمبر سے قاتلانہ حملے ہو سکتے ہیں۔

ناجح ابراہیم نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت مخالف لیڈروں کے قتل کے خدشے کا اظہار موجودہ سیاسی صورت حال کے تجزیے کی بنا پر کر رہے ہیں اور وہ معلومات کی بنا پر ایسا یہ نہیں کہہ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں رونما ہونے والے تشدد کے واقعات، سیناء میں سکیورٹی فورسز پر حملوں اور اخوان المسلمون اور مساجد پر حملوں کے ردعمل میں لبرلز کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کیا جا سکتا ہے۔

ناجح ابراہیم نے اس سے پہلے لندن سے شائع ہونے والے روزنامے الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''مصر میں حالیہ سیاسی افراتفری ،تشدد اور عدم اعتماد کی فضا کے ردعمل می معروف لبرل شخصیات کو قاتلانہ حملوں کا ہدف بنایا جا سکتا ہے''۔

انھوں نے صدر محمد مرسی کے اپنے جاری کردہ احکامات اور فیصلوں کو قانونی استثنیٰ دینے کے لیے ان کے حالیہ فرامین کی حمایت کا اظہار کیا۔تاہم انھوں نے مصری صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی حکومت میں مزید لبرل شخصیات کو شامل کریں اور فیصلہ سازی کے عمل میں ان کے مطالبات کو بھی ملحوظ رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ''اگر صدر نے نئی حکومت میں سول قوتوں کو شامل کیا ہوتا تو آج ان کے بہت زیادہ دشمن نہ ہوتے لیکن اب انھیں مصر کی تقسیم سے قبل حکومت میں شامل کیا جانا چاہیے''۔ انھوں نے خبردار کیا کہ مصر سیاسی کے علاوہ جغرافیائی طور پر بھی تقسیم ہو سکتا ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر صدر مرسی نے اپنے فیصلوں کو واپس لیا تو ملک مزید بحران کا شکار ہو جائے گا۔

لیکن ناجح کے لبرل شخصیات کے قتل سے متعلق بیان کی ان کی جماعت کی مشاورتی کونسل کے چئیرمین اعصام ضرب اللہ ہی نے مخالفت کر دی ہے اور ان کے بیانات کو غیر ذمے دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جماعت کی رائے کی نمائندگی نہیں کرتے۔ روزنامہ المصری الیوم میں ان کے شائع ہونے والے بیان کے مطابق انھوں نے کہا کہ یہ وقت ایسے بیانات جاری کرنے کا نہیں ہے۔ اس سے مصری معاشرے میں تقسیم مزید بڑھے گی اور اسلامی گروپوں کا خوف پھیلے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ناجح ابراہیم کے بیانات محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں اور یہ ان کے ذاتی نقطہ نظر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کا جماعت کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ اس وقت ان کے پاس جماعت کا کوئی عہدہ نہیں ہے۔

الجماعۃ الاسلامیہ کے ایک اور سرکردہ رکن طارق الزمر نے بھی ناجح ابراہیم کے بیانات کو محض قیاس آرائیاں قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''مصر میں انقلاب 25 جنوری کے بعد تمام واقعات پُرامن انداز میں رونما ہو ئے ہیں اور ہو رہے ہیں''۔