.

کردستان۔بغداد کشیدگی کرد فوجی قیادت کے بغداد سے مذاکرات

کرکوک کے معاملے پر ممکنہ خانہ جنگی روکنے کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کے صوبہ کردستان اور بغداد حکومت کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں صوبے کے اعلیٰ فوجی اہلکاروں کا ایک وفد کا بغداد پہنچا ہے تاکہ کرکوک کے معاملے پر اٹھنے والے تنازع کے بعد صوبے اور مرکز کے درمیان ممکنہ خانہ جنگی سے بچا جا سکے۔ عراقی وزارت دفاع کے ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ بغداد پہنچنے والے کردستانی عسکری قیادت کا وفد آج پیر کو وزیر اعظم نوری المالکی اور دیگر حکام سے مذاکرات کرے گا۔



ذرائع نے بتایا کہ کرد وفد کی قیادت صوبہ کردستان کی مسلح افواج کے ترجمان جبار یاور کر رہے ہیں۔ یہ وفد آج ہی کے روز بغداد میں وزارت دفاع کے عہدیداروں سے بھی بات چیت کرے گا۔ ذرائع کے مطابق کردستان کی فوجی قیادت کا خود مذاکرات کے لیے چل کر آنے کا مقصد نوری المالکی کی حکومت کو یہ سخت پیغام بھی دینا ہے کہ اگر کرکوک کے معاملے پر مرکز اور صوبے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہو پاتا تو کرد فوج لڑائی کے لیے بھی تیار ہے۔ یہ وفد بغداد سرکار کو سنہ 2009ء کو فریقین میں طے پائے اس معاہدے کی بھی یاد دہانی کرائے گا جس کے تحت مرکز نے کرکوک میں کردستان کی فوجوں کو تعینات کرنے کی اجازت دی تھی لیکن بعد میں انہیں ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔



ذرائع کے مطابق سنی اکثریتی صوبہ کردستان اور بغداد حکومت کے درمیان کچھ عرصے سے کشیدگی میں اضافے کے بعد کرد حکومت نے مرکز کو سخت پیغام دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ فوجی وفد کے ذریعے کردستان نے بغداد کو بتا دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرے ورنہ تیل کی دولت سے مالا مال کرکوک جیسے علاقوں پر لڑائی کے لیے تیار رہے۔



حال ہی میں کردستان نیشنل الائنس کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر برھم صالح نے کرکوک کا دورہ کیا اور کرکوک کے گورنر نجم الدین کریم سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات میں مسٹر صالح نے یقین دلایا کہ کرد کرکوک کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ وہ اس مقصد کے لیے تمام ذرائع اختیار کریں گے۔ کرکوک کے دفاع کے لیے جنگ کی ضرورت پڑی تو اس سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔



خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل کردستان نے کرکوک، صلاح الدین اور دیالی جیسے اضلاع میں اپنی فوجیں بھیج دی تھیں، جس کے بعد مرکزی حکام اور کردستان کے درمیان کسی نئی کشیدگی کے بادل منڈلاتے دکھائی دے رہے تھے۔ اسی اثناء میں وزیر اعظم نوری المالکی نے یہ بیان بھی داغ دیا تھا کہ کردستان کے وزیر اعلیٰ مسعود البارزانی بغداد کی اجازت کے بغیر بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے۔



مسعود بارزانی نے مسئلے کے فوجی کے بجائے سیاسی حل پر زور دیا تھا۔ گذشتہ ہفتے عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر اسامہ النجیفی سے ملاقات میں انہوں نے کہا تھا کہ کردستان کرکوک اور دیگر متنازعہ اضلاع کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔ اس کے لیے فریقین کے پاس بہتر راستہ سن 2009ء میں طے پایا وہ معاہدہ ہے جس کے تحت کرد فوجوں کو کرکوک میں تعینات کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔