.

اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک سیاست سے کنارہ کش

استعفے کا فیصلہ، آئندہ انتخابات نہ لڑنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے سیاست کو خیرباد کہتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی عہدے سے استعفیٰ دیں گے اور آئندہ سال جنوری میں منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔

خیال رہے کہ 70 سالہ ایہود باراک فوج اور سیاست دونوں میں طویل عرصے تک خدمات انجام دیتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے 39 سال فوج اور قریبا دو عشرے سیاست میں گذارے۔ سیاسی میدان میں وہ وزیر داخلہ، دفاع اور وزیر اعظم کے عہدے پر بھی رہ چکے ہیں۔ سیاست سے ان کے علاحدہ ہونے کے ساتھ ہی ان کا اسرائیلی فوجی اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک لمبے دور کا خاتمہ ہو جائے گا۔



تل ابیب میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایہود باراک نے یہ چونکا دینے والی خبر دی کہ وہ سیاسی زندگی سے کنارہ کش ہو رہے ہیں اور آئندہ کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ وہ اپنی بقیہ زندگی اپنے خاندان کے ساتھ گذاریں گے۔



انہوں نے کہا کہ میں آئندہ تین ماہ کے اندر ہی وزارت دفاع کے قلمدان کو بھی چھوڑ دوں گا اور یہ میدان کسی اور کے لیے خالی کروں گا۔ واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع کا سیاست سے علاحدگی کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ابھی پانچ روز قبل اسرائیل فلسطینی تنظیم حماس کے خلاف ایک بڑی جنگی مہم جوئی کر چکا ہے۔ ایہود باراک نے اس جنگ کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔ ایہود باراک نے نوے کی دہائی میں فوج سے خدمات کے اختتام کے بعد سیاست میں قدم رکھا۔ وہ فوج میں چار عشروں تک چیف آف اسٹاف سمیت کئی اہم عہدوں پر تعینات رہے اور سیاست میں آنے کے بعد انہوں نے سنہ 1999 سے 2001ء تک وزارت عظمیٰ کا قلم دان بھی سنھبالا۔



ایہود باراک کے استعفے سے چندے قبل اسرائیلی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے یہ خبر نشر کی تھی مسٹر باراک وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کی حکومت سے علاحدگی اختیار کرنے کے بعد اپوزیشن لیڈر زیپی لیونی کی نئی جماعت میں شامل ہونےکا اعلان کرنے والے ہیں۔ تاہم مسٹر باراک نے سیاست ہی کو خیرباد کہنے کا اعلان کرکے سب کو حیران کر دیا۔