.

بغداد میں تین کار بم دھماکے، 23 افراد ہلاک، 50 زخمی

اہل تشیع کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کے دارالحکومت بغداد میں اہل تشیع کی عبادت گاہوں کے نزدیک تین کار بم دھماکوں کے نتیجے میں تئیس افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

عراقی حکام نے بتایا ہے کہ بغداد کے شمالی علاقوں شوالہ، جریات اور حریت میں اہل تشیع کی حسینیہ امام بارگاہوں پر بم حملے کیے گئے ہیں۔ فوری طور پر کسی گروپ نے ان بم حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن ملک کے سنی مزاحمت کار ماضی میں اہل تشیع پر بارود سے بھری کاروں کو حملوں کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

منگل کو سب سے تباہ کن کار بم دھماکا بغداد کے علاقے شوالہ میں ایک امام بارگاہ کے باہر ہوا ہے۔اس وقت لوگ عمارت سے باہر آئے تھے اور ان میں سے نو موقع پر ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہاشم عباس نامی ایک پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ بم دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس سے مرنے والوں اور زخمیوں کے چیتھڑے پورے علاقے میں پھیل گئے۔ دوسرے دونوں علاقوں میں اہل تشیع کے جلوسوں میں کار بم دھماکوں میں سات، سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

عراق میں یہ کار بم دھماکے عاشورہ محرم قریباً پُرامن انداز میں گزرجانےکے بعد ہوئے ہیں اور اس محرم میں دہشت گردی کا یہ پہلا بڑا واقعہ ہے۔یوم عاشور کے موقع پر جنوبی شہر کربلا میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ شہر کے شمالی ،جنوبی اور مشرقی داخلی راستوں پر تیس ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے اور اسی وجہ سے ماضی کی طرح کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ عراقی حکومت کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ ماہ تشدد کے واقعات میں ایک سو چوالیس افراد ہلاک اور دو سو چونسٹھ زخمی ہو گئے تھے۔