.

حسنی مبارک کو خرابیٔ صحت کی بنا پر رہا کرنے سے انکار

طرہ جیل کے اسپتال ہی میں رکھنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے دارالحکومت قاہرہ کی ایک عدالت نے سابق صدر حسنی مبارک کو خرابیٔ صحت کی بنا پر جیل سے رہائی دینے سے انکار کر دیا ہے۔

سابق صدر حسنی مبارک اس وقت قاہرہ کے نواح میں واقع طرہ جیل میں مظاہرین کی ہلاکتوں کے جرم میں عمر قید کاٹ رہے ہیں۔ ان کی صحت خراب ہے اور ان کے وکیل نے عدالت میں ان کی تشویش ناک حالت کے پیش نظر جیل سے رہا کر کے ایک اسپتال میں منتقل کرنے کی استدعا کی تھی لیکن عدالت کے جج نے ان کے موقف کو مسترد کر دیا ہے۔

قاہرہ کی ایک عدالت نے چوراسی سالہ حسنی مبارک کو 2 جون 2012ء کو ساڑھے آٹھ سو مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے چند روز کے بعد ان کی حالت بگڑ گئی تھی اور انھیں طرہ جیل کے اسپتال میں دل کا دورہ پڑا تھا جس کے بعد انھیں معادی کے فوجی اسپتال میں منتقل کر دیا گیا تھا جہاں انھیں علاج کے دوران مصنوعی تنفس پر بھی رکھا گیا تھا۔

مصری میڈیا کے مطابق حسنی مبارک کو سزا سنائے جانےکے بعد فوجی اسپتال سے طرہ جیل منتقل کرنے پر شدید صدمہ پہنچا تھا اور وہ یہ توقع نہیں کرتے تھے کہ انھیں جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ ان کی حالت تب سے مسلسل بگڑنا شروع ہو گئی تھی اور ان کی موت کی افواہیں گردش کرنے لگی تھیں۔

واضح رہے سابق مرد آہن کو مصر کے سرکاری میڈیا نے 19 جون کو طبی طور پر مردہ قرا ردے دیا تھا۔ معادی کے فوجی اسپتال میں وہ چند روز تک زیر علاج رہے تھے اور صحت سنبھلنے کے بعد انھیں پراسکیوٹر جنرل کے حکم پر دوبارہ طرہ جیل کے اسپتال میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

حسنی مبارک گذشتہ سال فروری میں صدارت چھوڑنے کے بعد سے علیل چلے آ رہے ہیں اور انھیں ان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے بھی ایک اسٹریچر پر ڈال کر قاہرہ کی عدالت میں پیش کیا جاتا رہا تھا۔ وہ ڈیپریشن، بلند فشار خون اور سانس کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ وہ ایک عرصے سے کینسر میں مبتلا ہیں اور ان کے دور اقتدار میں بھی ان کو لاحق پراسرار امراض کے حوالے سے چہ میگوئیاں کی جاتی رہی تھیں۔