.

روس میں مطبوعہ کرنسی سے شامی فوج کو تنخواہوں کی ادایئگی

ماسکو سے 240 ٹن کرنسی نوٹ دمشق بھجوائے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عالمی پابندیوں کے نتیجے میں شام میں پیدا ہونے والے اقتصادی بحران سے نمٹنے کی خاطر روس نے 240 ٹن شامی کرنسی چھاپ کر موسم گرما کے دوران دمشق پہنچائی ہے تاکہ بشار الاسد حکومت سن 2011ء کے بعد سے ملک میں عوامی انتفاضہ کو کچلنے میں مصروف فوج کو تنخواہیں ادا کی جا سکیں۔

برطانوی اخبار"ٹائمز' نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں کہا ہے کہ شام اور روس کے درمیان غیر معمولی فضائی سروس کے جائزے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ روس، شام کا سب سے بڑا مددگار ہے۔

اس معاملے میں وہ ایران کو کوسوں پیچھے چھوڑ گیا ہے، بالخصوص سرکاری ملازمین اور فوجیوں کی تنخواہ ادائیگی کے لئے شامی کرنسی چھاپ کر اس کی دمشق ترسیل ماسکو۔دمشق کے دیرینہ اور مضبوط تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

روس سے شام کو کرنسی نوٹوں کی فراہمی، مؤخر الذکر پر یورپی یونین کی مالیاتی پابندیوں کے بعد کی گئی ہے۔ ان پابندیوں میں دمشق سرکاری کو بینکنگ چینلز کے ذریعے رقوم کی منتقلی، کرنسی نوٹوں کی چھپائی اور ہارڈ کرنسی دینے پر سخت پابندی ہے۔ کرنسی نوٹ چھاپنے پر یورپی یونین کی پابندی کے بعد اسٹریا نے تین برس تک شامی کرنسی چھاپنے کا معاہدہ کیا تھا، جسے بعد میں روس نے اپنے ذمے لے لیا۔

روس میں چھاپی گئی شامی کرنسی کی دمشق ترسیل کے بعد اب ایک ملین حکومتی عمال کو تنخواہوں کی ادائیگی کا مرحلہ آسان ہو جائے گا۔ روس اور شام کے درمیان کرنسی کی طباعت کا معاہدہ نئی کرنسی کے لئے نہیں بلکہ پہلے سے ہی گردش میں نوٹوں کی ازسر نو طباعت ہے۔ شام سمجھتا ہے کہ اگر اپنی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر کے بعد اس نے مزید نوٹ چھاپنے کا سلسلہ جاری رکھا تو ملک میں افراط زر بڑھے گا اور لیرا کی ڈالر کے مقابلے میں قدر میں مزید کمی آئے گی۔