.

شام مختلف شہروں پر فضائی حملے، کار بم دھماکے، بیسیوں ہلاک

دمشق کے نواح میں باغیوں اور سرکاری فوج میں شدید جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے شمالی شہر ادلب کے نواح میں واقع زیتون کے تیل کے ایک پریس پر صدر بشار الاسد کی وفادار فوج کے فضائی حملے اور دوسرے شہروں میں کار بم حملوں میں بیسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔

ایک شامی کارکن طارق عبدالحق نے بتایا ہے کہ ادلب شہر کے مغرب میں واقع ''ابو ہلال زیتون تیل پریس'' پر فضائی حملے میں بیس افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہو گئے ہیں۔ لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی۔ البتہ اس کا کہنا ہے کہ فضائی حملے میں بیسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر دارالحکومت دمشق میں ہوائی اڈے کی جانب جانے والی شاہراہ پر باغی جنگجوؤں اور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپوں کی اطلاع ملی ہے اور شہر سے جنوب مغرب میں واقع قصبے جدیدۃ آرطوز میں ملٹری پولیس کے ایک چیک پوائنٹ پر کار بم دھماکا ہوا ہے۔ فوری طور پر اس بم حملے میں ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں اور آبزرویٹری نے وہاں سکیورٹی فورسز کی شدید فائرنگ کے بارے میں بھی بتایا ہے۔

العربیہ ٹی وی نے مقامی کارکنان کے حوالے سے ایک نشریے میں بتایا ہے کہ باغی فوجیوں اور جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحرنے دمشق کے نواح میں واقع قصبے داریا میں سرکاری فوج کے آٹھ ٹینکوں کو تباہ کردیا ہے۔

سرکاری فوج نے داریا سمیت دمشق کے نواحی علاقوں میں باغیوں کے ٹھکانوں پرشدید گولہ باری کی ہے۔شام کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ القاعدہ سے وابستہ دہشت گردوں کو فوج کے ساتھ لڑائی میں بھاری جانی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

شمالی شہر حلب کے علاقے حمدانیہ سے بھی باغی جنگجوؤں اور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپوں کی اطلاع ملی ہے۔حلب اور اس کے نواح میں باغیوں اور اسدی فوج کے درمیان گذشتہ پانچ ماہ سے لڑائی جاری ہے لیکن اس دوران ان میں سے کوئی بھی مکمل طور پر فتح یاب نہیں ہو سکا۔ باغیوں نے سوموار کو حلب اور اس کے پڑوسی صوبے الرقاع کے درمیان واقع شاہراہ کو کاٹ دیا تھا جس کی وجہ سے اب سرکاری فوج کو کمک اور سامان رسد کی فراہمی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

شام میں گذشتہ سال مارچ سے صدر بشار الاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران چالیس ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں پچیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ پڑوسی ممالک میں جانے والے تین لاکھ ساٹھ ہزار مہاجرین کو رجسٹر کیا گیا ہے اور ان سے زیادہ تعداد نے اپنی رجسٹریشن نہیں کرائی اور وہ ایسے ہی ان ممالک میں رہ رہے ہیں۔