.

قاہرہ میدان التحریر میں ہزاروں افراد کا مظاہرہ، پولیس کے ساتھ جھڑپیں

صدر مرسی کے آئینی اعلامیے کے خلاف احتجاج جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں صدر محمد مرسی کے جاری کردہ متنازعہ آئینی اعلامیے کے خلاف آج منگل کو ایک بڑا مظاہرہ کیا جارہا ہے جبکہ تحریر اسکوائر کے نزدیک پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

میڈیا کے نمائندوں کی اطلاع کے مطابق قاہرہ میں امریکی سفارت خانے کے نزدیک واقع میدان التحریر کے کونے میں نوجوان مظاہرین نے پولیس کی جانب پتھراؤ کیا اور پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔

میدان التحریر میں ہزاروں افراد صدر محمد مرسی کے آئینی اعلامیے کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں شریک ہیں۔ بعض مظاہرین نے پوڈیم پر آکر نوجوانوں اور پولیس کے درمیان لڑائی کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا اور ان سے کہا کہ وہ محاذ آرائی سے گریز کریں۔

صدر کے حکم نامے کے خلاف قاہرہ کے علاوہ اسکندریہ، نیل ڈیلٹا اور وسطی مصر کے مختلف صوبوں میں بھی آج مظاہرے کیے جارہے ہیں جبکہ صدر محمد مرسی کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون نے ان کے حق میں مظاہرے کی اپیل واپس لے لی ہے اور اس نے مزید خون خرابے اور محاذ آرائی سے بچنے کے لیے منگل کو ریلی نہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صدر مرسی نے گذشتہ روز اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سے ملاقات کی تھی اور انھیں یہ یقین دلانے کی کوشش کی تھی کہ وہ عدلیہ کی آزادی اور اختیارات پر کوئی قدغن نہیں لگا رہے ہیں لیکن ان کی اس ملاقات کے باوجود معاملہ کوئی ٹھنڈا نہیں ہوا ہے اور ملک بھر میں صدر کے حامیوں اور ان کے مخالفین کے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس ملاقات کے بعد صدارتی ترجمان یاسر علی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئینی اعلامیے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ ججوں نے ملاقات کے دوران صدر سے گذشتہ جمعرات کو ان کے جاری کردہ اعلامیے کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

مصری صدر نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا آئینی اعلامیہ عارضی نوعیت کا ہے اور وہ سیاسی قوتوں کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں۔ان کے جاری کردہ آئینی اعلامیے کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور اس دوران صدر کے حامی اسلام پسندوں اور ان کے مخالفین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں اور ان میں تین افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوچکے ہیں۔حکومت مخالفین نے قاہرہ سمیت ملک کے بڑے شہروں میں اخوان المسلمون کے سیاسی بازو آزادی اور انصاف پارٹی کے متعدد دفاتر نذر آتش کر دیے ہیں۔