.

یاسر عرفات کی قبر کشائی، تبرکا ڈالی گئی مسجد اقصیٰ کی مٹی ضائع

قبلہ اول سے مٹی سابق مفتی فلسطین ہمراہ لائے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطین کے لیجنڈری مرحوم لیڈر یاسر عرفات کا جسد خاکی تدفین کے آٹھ برس بعد منگل کے روز قبر سے نکالا گیا تاکہ اس امر کا تعین کیا جا سکے کہ وہ فطری طور پر اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے یا پھر ان کی موت زہر خورانی سے ہوئی؟ اس سوال کا جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا کہ ابو عمار کے انتقال کا اصل سبب کیا تھا؟ تاہم قبر کشائی سے ان کی قبر پر بطور تبرک ڈالی گئی مسجد اقصیٰ کی مٹھی بھر مٹی ضائع ہو گئی۔ یہ مٹی ان کی تدقین کے وقت مفتی دیار فلسطین ڈاکٹر عکرمہ صبری مسجد اقصی سے اپنے ساتھ بطور تبرک لائے تھے۔



سابق مفتی اعظم فلسطین ڈاکٹر عکرمہ صبری مسجد اقصیٰ کی اس مٹی کے بارے میں العربیہ کے سوالات کا القدس سے بذریعہ ٹیلی فون جواب دیتے ہوئے کہا مرحوم فلسطینی صدر یاسر عرفات نے اپنی زندگی میں وصیت کی تھی کہ انہیں وفات کے بعد مسجد اقصیٰ کے پہلو میں سپرد خاک کیا جائے۔ چونکہ اسرائیل نے اس کی اجازت نہیں دی، جس کےبعد اُنہیں امانتا رام اللہ میں فتح کے ہیڈکوارٹرز کے احاطے میں امانتاً سپرد خاک کر دیا گیا۔ تاہم تدفین سے قبل میں بیت المقدس سے آتے ہوئے مسجد اقصیٰ کی کچھ مٹی لے آیا تھا، جسے تدفین کے بعد ابو عمار کی قبر پر ڈال دیا تھا۔



جب شیخ عکرمہ سے پوچھا گیا کہ انہوں نے مسجد اقصیٰ کے کس حصے سے مٹی اٹھائی تھی تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے یہ مٹی مسجدا قصیٰ کے صحن ایک ایسی جگہ سے اٹھائی جس پر نماز ادا نہیں کی جاتی۔ اس جگہ زیتون کے گھنے درخت ہیں وہاں سے مٹی کی ایک مھٹی پلاسٹک کے ایک لفافے میں ڈالی، جسے بعد ازاں یاسر عرفات کی آخری آرام گاہ پر بکھیر دیا گیا۔



ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عکرمہ نے بتایا کہ تدفین سے قبل یاسر عرفات کے لیے کنکریٹ کا بکس تیار کیا گیا تھا۔ کفن دیے جانے کے بعد ان کی میت اسی میں رکھی گئی۔ اسے قبر میں اتارنے کے بعد مسجد اقصیٰ سے لائی گئی مٹی میت پر سر سے پاؤں تک ڈال دی گئی۔ بعد ازاں ان کے چہرے کا رخ مسجد اقصیٰ کی طرف پھیر کر دفنا دیا گیا۔



سابق مفتی فلسطین نے بتایا کہ یہ افواہیں غلط ہیں کہ تدفین کے وقت ابو عمار کی میت کے ساتھ قرآن کریم کا کوئی نسخہ یا کوئی قومی یاد گار بھی رکھی گئی تھی۔ ایسا کرنا خلاف شریعت ہے۔ البتہ انہوں نے محض یاسر عرفات کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کی مٹی ان کی میت پر ڈال دی تھی۔



جب ان سے پوچھا گیا کہ قبر کشائی کے نتیجے میں میت پر ڈالی گئی بکھر جانے کے بعد ضائع ہو جائے گی تو شیخ صبری نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ مٹی اسی قبر ہی میں رہے گی جس میں ابو عمار کو دفن کیا گیا تھا۔



ایک سوال کے جواب میں شیخ صبری نے کہا کہ قبر کشائی اور ابو عمار کی وفات کے اسباب کے تعین کی مساعی اپنی جگہ اگر یہ بات ثابت بھی ہو جائے کہ یاسر عرفات کو اسرائیل نے قتل کرایا تھا تو اسرائیل سے اس کا مقدمہ کون لڑے گا اور فلسطینیوں کو انصاف کون دلائے گا؟۔