.

دمشق کا نواحی علاقہ جرمانا کار بم دھماکوں سے لرز اٹھا

جیش الحر نے اردن سرحد پر حکومت کا اہم دفتر تباہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام میں انسانی حقوق آبزرویٹری نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ بدھ کے روز دارلحکومت دمشق کے جنوب مشرقی علاقے جرمانا میں دو کار بم دھماکوں میں کم سے کم 20 افراد جاں بحق ہو گئے۔

آبزرویٹری کے مطابق دو شدید دھماکوں سے دمشق کا مضافاتی علاقہ جرمانا لرز اٹھا۔ یہ دھماکے دو کاروں میں نصب بارودی مواد کے پھٹنے سے ہوئے۔ جس کے بعد ایمبولینس گاڑیاں متاثرہ علاقے کی جانب دیکھی گئیں۔



شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'سانا' کے مطابق جرمانا کے علاقے میں دو دھماکے ہوئے ہیں جو بادی النظر میں دہشت گرد کارروائی معلوم ہوتے ہیں۔ ان دھماکوں میں جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ علاقے کے ایک مکین نے 'سانا' کو بتایا کہ دھماکے علی الصباح مقامی وقت 0630 بجے ہوئے۔

آبزرویٹری نے دمشق کے مضافاتی قصبے الزبدانی پر شامی فوج کی گولا باری کی اطلاع دی ہے۔ سرکاری فوج الزبدانی پر حملے کی کئی دنوں سے کوشش کر رہی ہے۔

شامی انقلاب جنرل کونسل کا کہنا ہے کہ چار مہینوں سے روزانہ سرکاری فوج الزبدانی پر گولا باری کرتی ہے۔ نصف گھںٹے میں ٹینکوں سے فائر کردہ پچاس راکٹ شہر کے مختلف علاقوں پر گرے ہیں، جن سے ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔

درایں اثنا شامی جیش الحر اور سرکاری فوج کے درمیان گولان کے علاقے القنیطرہ سے جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سرکاری فوج نے رات گئے ہونے والی جھڑپوں میں مدمقابل جیش الحر کے ٹھکانوں کا پتہ لگانے کے لئے روشنی کے گولے فائر کئے۔ 'سانا' انقلابی نیوز ایجنسی نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ صدراتی محل کے گرد حفاظتی انتظامات میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

مقامی کوارڈی نیشن کمیٹیوں کے مطابق عباسین میں ہونے والے زرودار دھماکوں سے دمشق لرز اٹھا۔ ادھر شامی میڈیا سینٹر نے دمشق کی القابون، بساتین العدوی اور جوبر کالونیوں میں پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔ جھڑپوں کی شدت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ سرکاری فوج کو درعا میں اپنی یونٹوں کو دمشق کمک بھیجنا پڑی۔

میڈیا سینٹر ہی کے مطابق حلب کے علاقے الصاخور پر سرکاری فوج نے شدید گولا باری کی ہے جبکہ دوسری جانب سرکاری فوج اور جیش الحر کے درمیان لڑائی کی بھی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب شامی میڈیا سینٹر نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں جیش الحر کی جانب سے ایک حملے میں شام/اردن سرحد پر قائم بشار الاسد حکومت کا ایک خفیہ دفتر تباہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ دونوں ملکوں کی سرحد پر یہ سب سے بڑا دفتر بتایا جاتا ہے۔ اس کی تباہی سے اسی ادارے کے تین ذیلی دفتر بھی متاثر ہوئے ہیں اور یوں جیش الحر عملاً سرحدی علاقے میں چھے کلومیٹر علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔