.

شام میں در اندازی کی کوشش کے الزام میں پانچ اردنی گرفتار

سرحدی گاؤں سے کلاشنکوفوں سمیت خودکار ہتھیار برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اردن کی پولیس نے بدھ کو پڑوسی ملک شام میں در اندازی کی کوشش کے الزام میں پانچ افراد کو خودکاروں ہتھیاروں سمیت گرفتار کر لیا ہے۔

اردنی پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''پولیس اہلکاروں نے سرحدی گاؤں تورا میں ایک مکان پر چھاپہ مار کر پانچ اردنی شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں دہشت گردی میں ملوث ایک سزا یافتہ مجرم بھی شامل ہے۔ان کے ٹھکانے سے کلاشنکوفوں سمیت خودکار ہتھیار برآمد ہوئے ہیں''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انھوں نے شمالی سرحد کی جانب دراندازی کے لیے یہ ہتھیار حاصل کیے تھے۔ پولیس کے ایک ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مشتبہ افراد شام میں داخل ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد میں سے ایک کو 2007ء میں دہشت گردی کے حملوں کی سازش میں ملوث ہونے کے جرم میں پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اسے جیل میں کچھ عرصہ قید کاٹنے کے بعد معاف کر دیا گیا تھا۔ تاہم پولیس کے بیان میں اس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اردن کے حکام نے اپریل اور جون میں بھی شام میں در اندازی کی کوشش کرنے والے دس پندرہ جہادیوں کو گرفتار کرنے کی اطلاع دی تھی۔ گذشتہ ماہ سرحدی علاقے سے شام میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے جہادیوں کے ساتھ جھڑپ میں ایک فوجی ہلاک ہو گیا تھا۔

شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں اپنا گھربار چھوڑ کر چلے جانے والے دو لاکھ سے زیادہ شامی اس وقت اردن میں عارضی خیمہ بستیوں میں رہ رہے ہیں۔ اردن نے ان شامی مہاجرین کو خوراک اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی کے لیے عالمی برادری اور خاص طور پر اقوام متحدہ سے مالی مدد کی اپیل کی تھی۔