.

صدر مرسی دستوری عدالتِ عظمیٰ کے خلاف مہم چلا رہے ہیں

میدان التحریر میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی سپریم دستوری عدالت نے قرار دیا ہے کہ صدر محمد مرسی اس کے خلاف مہم چلا رہے ہیں جبکہ قاہرہ کے میدان التحریر میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تازہ جھڑپوں کی اطلاع ملی ہے اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔

مظاہرین نے میدان التحریر میں صدر مرسی کے جاری کردہ آئینی اعلامیے کے خلاف دھرنا دے رکھا ہے اور وہ اسے واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ صدر مرسی کے مخالفین گذشتہ چھے روز سے احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ تحریر چوک کے نزدیک واقع شاہراہوں پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان رات کو بھی جھڑپیں ہوئی تھیں۔

منگل کو قاہرہ اور ملک کے دوسرے شہروں میں ہزاروں حکومت مخالفین نے احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی تھی۔ وہ صدر مرسی سے اقتدار چھوڑنے کا بھی مطالبہ کر رہے تھے۔ انھوں نے صدر پر الزام عاید کیا کہ وہ عدلیہ کی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور مطلق العنان حکمران بنتے جا رہے ہیں۔

حکومت مخالفین نے احتجاجی ریلیوں کے دوران قاہرہ، اسکندریہ، منصورہ اور بعض دوسرے شہروں میں اخوان المسلمون اور اس کے سیاسی بازو آزادی اور انصاف پارٹی کے متعدد دفاتر کو نذر آتش کر دیا تھا۔ صدر کے خلاف حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران پہلے بھی اخوان کے دفاتر نذر آتش کیے جا چکے ہیں اور حکومت مخالفین کے ساتھ جھڑپوں میں جماعت کے دو سو سے زیادہ کارکنان زخمی ہو چکے ہیں جبکہ تین افراد مارے گئے ہیں۔

مصری صدر نے جمعرات کو جاری کردہ فرامین میں سے ایک میں کہا تھا کہ ''صدر نے عہدہ سنبھالنے کے بعد جو بھی فیصلے کیے، قوانین اور اعلامیے منظور کئے، انھیں عدلیہ سمیت کوئی بھی اتھارٹی منسوخ نہیں کر سکتی اور نہ ان کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے''۔

صدر مرسی نے سوموار کو اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سے ملاقات کی تھی اور انھیں یہ یقین دلانے کی کوشش کی تھی کہ وہ عدلیہ کی آزادی اور اختیارات پر کوئی قدغن نہیں لگا رہے ہیں لیکن ان کی اس ملاقات کے باوجود معاملہ طے نہیں ہوا ہے۔