.

مصر کے نئے دستور کا حتمی مسودہ عجلت میں تیار

نئے آئین کے مسودے پر جمعرات کو رائے شماری ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی دستور ساز اسمبلی نے ملک کے نئے آئین کا حتمی مسودہ تیار کر لیا ہے اور اس کو جمعرات کو رائے شماری کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔

قاہرہ میں بدھ کو دستور ساز اسمبلی کے اجلاس کے آغاز کے موقع پر اسپیکر حسام الغریانی نے کہا کہ ''ہم آئین کی حتمی تدوین کا کام آج مکمل کر لیں گے''۔ انھوں نے جمعرات کو ایک عظیم دن قرار دیا ہے اور اسمبلی سے دستبردار ہونے والے ارکان سے کہا ہے کہ وہ واپس آ جائیں۔

اسمبلی کے دو سلفی ارکان یونس مخیون اور صلاح عبدالمعبود نے برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے حتمی مسودے پر جمعرات کو رائے شماری کرائی جائے گی۔ایک لبرل رکن عمرو عبدالہادی نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے۔

نئے آئین کے مسودے کی تکمیل سے متعلق یہ اطلاع ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قاہرہ کے میدان التحریر میں صدر محمد مرسی کے ہزاروں مخالفین جمع ہو کر مسلسل چھٹے روز ان کے جاری کردہ متنازعہ آئینی اعلامیے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

مصر کی حزب اختلاف کی سرکردہ شخصیت اور سابق صدارتی امیدوار عمرو موسیٰ نے ایک بیان میں کہا ہےکہ دستور ساز اسمبلی کی جانب سے مسودے کو حتمی شکل دینے کے اعلان کا کوئی جواز نہیں بنتا کیونکہ اسلام پسندوں کی بالادستی والے اس ادارے کی پہلے ہی مخالفت کی جا رہی ہے۔

انھوں نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ ایک احمقانہ اقدام ہے اور اس کو موجودہ اسمبلی کے بارے میں تحفظات کے پیش نظر نہیں کیا جانا چاہیے''۔ واضح رہے کہ مصر کے نئے آئین کو دستور ساز اسمبلی سے منظوری کے بعد عوامی ریفرینڈم کے لیے پیش کیا جائے گا اور اس کے بعد یہ ملک میں نافذ العمل ہو گا اور اس کے تحت نئے پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں گے۔

صدر مرسی نے گذشتہ جمعرات کو اپنے اختیارات بڑھانے اور اپنی احکامات کو عدالتی استثنیٰ دینے کے لیے ایک آئینی اعلامیہ جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ نئے آئین کی منظوری تک نافذ العمل ہو گا۔ ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے سیاسی بازو آزادی اور انصاف پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ صدر اس آئینی اعلامیے کو واپس نہیں لیں گے۔ جماعت کے وائس چئیرمین اعصام العریان نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''نئے آئین کی توثیق تک صدارتی حکم نامہ قابل عمل رہے گا''۔