.

ایران کی مدد کے بغیر بشار الاسد اقتدار جلد کھو دیں گے رپورٹ

تہران کو شام کی صورت حال کے بے قابو ہونے کا احساس ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کو بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانے والے حلیف ملک ایران کی مساعی بھی اب ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ ایرانی حکام خود یہ حقیقت تسلیم کرنے لگے ہیں کہ تہران کی مدد کے بغیر صدر اسد چند دن تک بھی مزید اقتدار پر قابض نہیں رہ سکیں گے۔



العربیہ ٹی وی کو سرکردہ ایرانی سفارتی ذرائع نے بتایا کہ شامی صورت حال کے بے قابو ہونے پر تہران میں گہری تشویش ہے۔ یہ رپورٹ تہران میں ایک بڑے عرب ملک کے سفارت کاروں کے ذریعے لیک ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بشار الاسد نے بحران کے حل کے لیے ایرانی قیادت کی ہدایت اور رہ نمائی کے مطابق کام نہیں کیا جس کی وجہ سے کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔ موجودہ کیفیت سے ایران سخت پریشان ہے کیونکہ معاملہ اب ہاتھ سے نکلتا دکھائی دیتا ہے۔



رپورٹ میں یہ واضح نہیں ہو پایا کہ آیا ایرانی حکومت نے اپنے حلیف بشار الاسد کو بحران سے نکلنے کے لیے کیا ہدایات کی ہیں جس پر اسد حکومت کی جانب سے عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں ایرانی حکام شامی فوج کے ہاتھوں قومی خزانے کی لوٹ مار پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ایران کی فراہم کردہ مالی امداد کا ایک بڑا حصہ شامی جرنیلوں نے اپنے نجی اکاؤنٹس میں منتقل کر دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تہران بشار الاسد کی حکومت کو جون 2013ء میں ہونے والے ایرانی صدارتی انتخابات تک برقرار رکھنا چاہتا ہے کیونکہ ایرانی انتخابات سے قبل صدر بشار الاسد کا تختہ الٹنے سے ایران میں بڑے پیمانے پر افراتفری پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ انتخابات کے موقع پر یہ کشیدگی مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔



رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی پابندیوں کے اثرات کے باعث تہران کو اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑا تو دمشق کی امداد بند کی جا سکتی ہے۔ اس وقت خود ایران کو اب یقین ہو چلا ہے کہ بھرپور امداد کے باوجود صدر اسد کو بچانا اب ممکن نہیں رہا ہے کیونکہ عوام کے خلاف طاقت کے استعمال کے بعد صدر اسد پہلے ہی سیاسی موت مر چکے ہیں۔ البتہ ایران، حزب اللہ کا محاذ بچانے کی کوشش ضرور کرے گا۔ ذرائع کے مطابق ایران اور حزب اللہ شامی اپوزیشن سے خفیہ رابطوں کے لیے بھی کوشاں ہیں لیکن یہ رابطے جیش الحر کی قیادت سے پوشیدہ رکھے جا رہے ہیں۔