.

شام باغیوں کے میزائلوں سے سرکاری فوج کے طیاروں پر حملے

صدر بشار الاسد کے لیے خطرے کی گھنٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام میں باغیوں نے گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے سرکاری فوج کے دو طیاروں کو مار گرایا ہے۔

باغی جنگجوؤں نے بدھ کو شمالی صوبہ حلب میں ایک جنگی طیارے کو مار گرایا تھا۔ اس سے ایک روز قبل انھوں نے پہلی مرتبہ ایک فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا۔ تبصرہ نگار اس نئی صورت حال کو شامی صدر کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر باغی جنگی طیارے مارگراتے رہے تو اس طرح شامی فوج اپنی فضائی برتری کھودے گی اور اس کے لیے باغیوں کی برسرزمین پیش قدمی کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔

شامی فوج گذشتہ جولائی سے صدر بشار الاسد کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والےجنگجوؤں کے خلاف جنگی طیارے استعمال کر رہی ہے اوراس نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر شدید بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

بدھ کو باغی فوجیوں اور جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر نے شام کے دوسرے بڑے شہر حلب اور ترکی کی سرحد کے درمیان واقع شیخ سلیمان بیس کے نزدیک ایک گاؤں طورمنین میں ایک جنگی طیارے کو مار گرایا تھا اور اس کے بعد بیسیوں جنگجو تباہ شدہ جنگی طیارے کے قریب آ گئے اور انھوں نے اللہ اکبر کے نعرے بلند کیے تھے۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ جنگی طیاروں کو میزائل سے مار گرایا ہے۔ طورمنین سے تعلق رکھنے والے باغیوں کا کہنا ہے کہ احرار دارۃ عزا گروپ نے جنگی طیارے پر حملہ کیا تھا۔ میزائل لگنے کے بعد طیارہ زمین پر آ گرا تھا۔ اس کے پھٹنے سے زوردار دھماکا ہوا تھا اور اس کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی تھی۔

طیارے کے تباہ ہونے سے قبل اس کے دونوں پائیلٹ پیرا شوٹ کے ذریعے نکل جانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ان میں سے ایک کو فوری طور پر باغیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور دوسرے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اسی علاقے میں باغیوں نے منگل کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے شامی فوج کا ہیلی کاپٹر مار گرایا تھا۔

درایں اثناء مقامی رابطہ کمیٹیوں نے شام میں اپنے کارکنان کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ جیش الحر نے صوبہ دمشق میں واقع قصبے حازنہ میں بعض فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے اور ان کے حملوں میں کم سے کم پچاس سرکاری فوجی مارے گئے ہیں۔