.

عراق پے در پے بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں 45 افراد ہلاک

اہل تشیع اور سکیورٹی فورسز پر تباہ کن بم حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کے مختلف شہروں میں پے درپے بم دھماکوں اور خودکش بم حملوں کے نتیجے میں پینتالیس افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

عراق کے وسطی شہر الحلہ کے مصروف تجارتی علاقے میں جمعرات کو اہل تشیع زائرین کے ایک گروپ پر پہلا بم حملہ کیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق بم دھماکے کے وقت زائرین میں لنگر تقسیم کیا جا رہا تھا۔ اس دھماکے میں زخمیوں کی مدد کے لیے آنے والی ٹیموں پر کار بم حملہ کر دیا گیا۔

عراقی پولیس نے بتایا کہ وسطی صوبہ بابل کے دارالحکومت حلہ شہر میں شیعہ زائرین کے ایک گروپ کو سڑک کے کنارے نصب دو بموں سے نشانہ بنایا گیا۔حلہ کے ایک اسپتال میں تینتیس مہلوکین کی فہرست لگائی گئی ہے اور اسپتال میں ایک سو چھیاسٹھ زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے۔ بغداد سے پچانوے کلومیٹر جنوب میں واقع اس شہر میں اس سال میں یہ سب سے تباہ کن حملہ ہے۔

اس سے قبل جنوبی شہر کربلا میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے مزار کے نزدیک بارود سے بھری ایک کار کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔اس واقعے میں چھے افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوئے تھے۔ کربلا کے ایک پولیس ترجمان نے بتایا کہ اس بم دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے قدیم شہر کی جانب جانے والی تمام شاہراہوں کو بند کر دیا اور کاروں کی تلاشی شروع کر دی۔حکام کو ایک کار میں بارود نصب ہونے کی اطلاع ملی تھی۔

آج عراق کے مختلف شہروں میں اہل تشیع کے علاوہ سکیورٹی فورسز کو بھی بم حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے اوربغداد سے مغرب میں واقع سنی آبادی والے شہر فلوجہ میں ایک خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار ایک پولیس چیک پوائنٹ پر دھماکے سے اڑا دی جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور گیارہ زخمی ہوگئے۔

شمالی شہر موصل اور شمال مشرقی قصبے بلدروز میں بھی پولیس کی گشتی پارٹیوں پر الگ الگ دو بم حملے کیے گئے ہیں اور ان میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔بغداد سے شمال میں واقع قصبے التاجی میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں ایک فوجی مارا گیا اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

عراق میں 27اکتوبر کے بعد ایک دن میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔تب ملک کے مختلف شہروں میں بم دھماکوں میں چالییس سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔اس ہفتے میں عراق میں اہل تشیع پر بم حملوں کا یہ دوسرا دن تھا۔منگل کو دارالحکومت بغداد میں تین بم دھماکوں میں پچیس افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے ان تباہ کن بم حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ ماضی میں ملک کے سنی مزاحمت کار اہل تشیع اور سکیورٹی فورسز پر بارود سے بھری کاروں کو حملوں کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں اور انھیں ہی ان حملوں کا ذمے دار ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔

عراق میں یہ بم دھماکے عاشورہ محرم قریباً پُرامن انداز میں گزر جانے کے بعد ہوئے ہیں اور تشدد کے ان واقعات میں تین روز میں ستر سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔ عاشورہ کے موقع پر جنوبی شہر کربلا میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ شہر کے شمالی ،جنوبی اور مشرقی داخلی راستوں پر تیس ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے اور اسی وجہ سے ماضی کی طرح اس مرتبہ یوم عاشور پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔عراقی حکومت کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اکتوبر میں تشدد کے واقعات میں ایک سو چوالیس افراد ہلاک اور دو سو چونسٹھ زخمی ہوگئے تھے۔