.

فلسطین کی اقوام متحدہ میں غیر رکن مبصر ریاست کے لیے درخواست

امن مذاکرات کی بحالی قرارداد کی منظوری سے مشروط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطینی صدرمحمود عباس امریکا اور اسرائیل کی مخالفت کے باوجود آج جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کا درجہ بڑھانے کے لیے درخواست پیش کررہے ہیں۔

محمود عباس ایک سو ترانوے رکن ممالک پرمشتمل جنرل اسمبلی سے نیویارک کے وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے خطاب کرنے والے ہیں۔اس میں وہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دینے کے لیے قرارداد پیش کریں گے اور اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی شرائط پیش کریں گے۔

اس وقت جنرل اسمبلی کے 132ممالک فلسطین کو دوطرفہ طور پر ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں لیکن فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض ممالک ان کی قرارداد پر رائے شماری کے وقت غیر حاضر رہ سکتے ہیں جبکہ بہت سے یورپی ممالک بھی ان کی درخواست کے حق میں ووٹ دیں گے حالانکہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتے۔

جنرل اسمبلی میں فلسطینی درخواست کی منظوری کے لیے سادہ اکثریت کی ضرورت ہے اور یہ توقع کی جارہی ہے کہ فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کی غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دے دیا جائے گا۔

اسرائیل کے پشتی بان ملک امریکا نے فلسطین کا اقوام متحدہ میں درجہ بڑھانے کے خلاف جارحانہ مہم شروع کررکھی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اسرائیل کے ساتھ دیرینہ تنازعے کے حل کے لیے امن مذاکرات کی بحالی میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

امریکی حکام کے مطابق نائب وزیرخارجہ ولیم برنز اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندے ڈیوڈ ہیل نے بدھ کو نیویارک میں صدر محمود عباس سے ان کے ہوٹل میں ملاقات کی تھی لیکن وہ انھیں قرار داد واپس لینے یا اس میں ترمیم پر آمادہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جنرل اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ''وہ اقوام متحدہ میں رائے شماری کے فوری بعد اسرائیل کے ساتھ امن عمل کے لیے تیار ہوں گے''۔واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھنے کے بعد فلسطینی اتھارٹی نے اس سے مذاکرات منقطع کردیے تھے۔

ادھر مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کی سنئیر عہدے دار حنان اشراوی نے نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ ''فلسطینیوں کو ہر مرتبہ رقوم سے بلیک میل نہیں کیا جاسکتا''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''اگر اسرائیل پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتا ہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔ہم نے عرب دنیا سے ان کی حمایت سے متعلق گفتگو کی ہے۔اگر اسرائیل مالیاتی اقدامات کے ساتھ جواب دیتا ہے تو یورپی یونین کے رکن ممالک نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ ہماری حمایت سے دستبردار نہیں ہوں گے''۔

فلسطینی صدر نے نیویارک روانہ ہونے سے قبل کہا تھا کہ اسرائیل اگر1967ء کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں کو تسلیم کرلے تو وہ اس کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کو تیار ہیں لیکن انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم ایسا کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔ محمود عباس نے گذشتہ اتوار کو رام اللہ میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''ہم صرف اس امن کے لیے کہہ رہے ہیں جس پر عالمی برادری نے اتفاق کیا ہے۔اس سے ہمیں مشرقی القدس دارالحکومت کے ساتھ ریاست حاصل ہوجائے گی۔اس کے بغیر امن کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی ہے''۔

اگر فلسطینی ریاست کا موجودہ درجہ مبصر سے بڑھ کر غیر ریاستی مبصر رکن کا ہوجاتا ہے تو وہ عالمی فوجداری عدالت ( آئی سی سی) جیسے بین الاقوامی اداروں کا بھی رکن بن سکتی ہے اور اس سے اسرائیل کے لیے سنگین مضمرات ہوسکتے ہیں کیونکہ اس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ رکھا اورغزہ کی پٹی کا محاصرہ جاری رکھا ہےحال ہی میں اس نے غزہ پر جارحانہ جنگ مسلط کی تھی۔ان اقدامات پر اس سے عالمی اداروں میں پوچھ گچھ ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ اب تک اقوام متحدہ کے رکن ایک سو ستائیس ممالک 1967ء کی جنگ سے قبل کی سرحدوں میں واقع غزہ کی پٹی ،دریاَئے اردن کے مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس پر مشتمل فلسطینی ریاست کو تسلیم کرچکے ہیں۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے گذشتہ سال ستمبر میں فلسطینی ریاست کو مکمل رکنیت دینے کی منظوری دی تھی۔اس کے بعد امریکا اوراسرائیل نے سزا کے طور پر اس عالمی ادارے کو دی جانے والی سالانہ امداد روک لی تھی۔