.

قطر میں حکومت مخالف کلام پر شاعر کو عمر قید کی سزا

سزا قومی سلامتی کی عدالت نے سنائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
قطری شاعر کو حکومت مخالف قصیدہ لکھنے کی پاداش میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ شاعر محمد بن الذیب کو یہ سزا قومی سلامتی کی ایک عدالت نے جمعرات کے روز سنائی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے کلام کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے پر لوگوں کو راغب کیا۔

ڈاکٹر عبید الوسمی، نجیب النعیمی اور بین الاقوامی ہیومن رائٹس واچ کے وفد پر مشتمل پینل نے عدالت میں شاعرالذیب کا دفاع کیا۔

سزا کے خلاف اپیل کی درخواست ایڈووکیٹ النعیمی نے دائر کی اور جج نے یہ درخواست سماعت کے لئے منظور کر لی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ اور انسانی حقوق کی دوسری تنظیموں نے اٹارنی جنرل کے ہاں سزا کے خلاف اعتراض داخل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مقدمے کی ایک برس پر محیط سزا کے دوران الدیب جیل میں قید رہے۔ ان کے اس مقدمے کو خلیجی اور عرب ملکوں کے ادبی اور ثقافتی حلقوں میں بہت زیادہ پذیرائی ملی۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں، شعراء اور لکھاریوں نے گزشتہ روز امیر قطر سے اسیر شاعر کی رہائی کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ الدیب کو زیر حراست رکھنے پر عوضانہ بھی دیا جائے۔

اس مقدمے کی بازگشت سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جاری رہی کیونکہ محمد ابن الذیب عرب دنیا کے مقبول عام عوامی شاعر تھے۔