.

مصر نئے آئین میں شریعت کے اصول قانون سازی کا بنیادی مآخذ

اسمبلی کا سابقہ آئین والی دفعہ برقرار رکھنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی دستور ساز اسمبلی نے ملک کے نئے آئین میں ''شریعت کے اصولوں'' کو قانون سازی کا بنیادی مآخذ کے طور پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سے متعلق دفعہ کی زبان بھی سابق آئین والی برقرار رکھی ہے۔

شریعت کو قانون سازی کا بنیادی مآخذ قرار دینے سے متعلق دفعہ راسخ العقیدہ سلفیوں اور دین سے دور آزاد خیالوں کے درمیان تنازعے کا موجب رہی ہے۔مصر کا نیا آئین دوسو چونتیس دفعات پر مشتمل ہے اور دستور ساز اسمبلی کے ارکان جمعرات کو اس کی ہر دفعہ کی الگ الگ منظوری دے رہے ہیں۔

اسمبلی سے منظوری کے بعد صدر محمد مرسی آئین کی توثیق کریں گے اور پھر پندرہ روز میں اس پر عوامی ریفرینڈم کرانے کا اعلان کریں گے۔ریفرینڈم میں آئین کی منظوری کے بعد قانون سازی کے اختیارات صدر مرسی سے پارلیمان کے ایوان بالا کو منتقل ہوجائیں گے۔دستور ساز اسمبلی کے ارکان کے مطابق اس سلسلہ میں نئے آئین میں ایک دفعہ کا اضافہ کیا گیا ہے۔

صدر مرسی نے ٹائم میگزین کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ نیا آئین منظور ہوجاتا ہے تو ان کی جانب سے قوانین کے اجراء کا سلسلہ بھی رک جائے گا۔انھوں نے یہ بات گذشتہ جمعرات کو اپنے جاری کردہ آئینی اعلامیے کے خلاف احتجاج مظاہروں کے تناظر میں کہی ہے۔

اخوان المسلمون کے ترجمان محمود غزلان نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ریفرینڈم میں آئین کی منظوری کے پندرہ روز کے بعد مارچ 2011ء کے حکم نامے سمیت ماضی میں جاری کردہ تمام آئینی اعلامیے خود بخود ہی ختم ہو جائیں گے''۔

واضح رہے کہ جون میں مصری پارلیمان کے ایوان زیریں کی تحلیل کے بعد سے منتخب قانون ساز اسمبلی نہیں ہے اور اب نئے آئین کی منظوری کے بعد عوامی نمائندے منتخب کرنے کے لیے پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں گے۔

مجوزہ آئین میں صدر ،پارلیمان کے اختیارات اور عدلیہ اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے نئے سرے سے اختیارات کا تعین کیا گیا ہے لیکن آئین کی عجلت میں تدوین پر بعض سیاسی اور صحافتی حلقوں نے حکومت پر تنقید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس طرح معاملات حل ہونے کے بجائے مزید بگڑیں گے۔

قاہرہ میں جمعرات کو ایک سو ارکان پر مشتمل دستور ساز اسمبلی کے اجلاس کے آغاز کے موقع پر اسپیکر حسام الغریانی نے کہا کہ ''اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہمارے شامل حال ہوں گی''۔انھوں نے جمعرات کو ایک عظیم دن قرار دیا اور اسمبلی سے دستبردار ہونے والے ارکان سے کہا کہ وہ واپس آجائیں۔

نئے آئین کے مسودے کی تکمیل اور اس پر رائے شماری سے متعلق یہ اطلاع ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قاہرہ کے میدان التحریر میں صدر محمد مرسی کے جاری کردہ متنازعہ آئینی اعلامیے کے خلاف ہزاروں افراد گذشتہ ایک ہفتے سے احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں اور وہ ان سے متنازعہ اعلامیہ واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مصر کی حزب اختلاف کی سرکردہ شخصیت اور سابق صدارتی امیدوار عمروموسیٰ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ''دستور ساز اسمبلی کی جانب سے مسودے کو حتمی شکل دینے کے اعلان کا کوئی جواز نہیں بنتا کیونکہ اسلام پسندوں کی بالادستی والے اس ادارے کی پہلے ہی مخالفت کی جارہی ہے''۔

انھوں نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ ایک احمقانہ اقدام ہے اور اس کو موجودہ اسمبلی کے بارے میں تحفظات کے پیش نظر نہیں کیا جانا چاہیے''۔عمرو موسیٰ خود بھی اس دستور ساز اسمبلی کے رکن رہے تھے لیکن وہ اپنے تحفظات کے پیش نظر اس سے دستبردار ہو گئے تھے۔