.

اردن میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف عمان میں احتجاجی ریلی

حکومت سے عوامی بغاوت سے قبل اصلاحات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اردن کے دارالحکومت عمان میں ہزاروں افراد نے ایندھن اور دیگر اشیائے ضروریہ کی روز افزوں قیمتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور وزیر اعظم عبداللہ نصر کی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں سابق وزیر اعظم اور انٹیلی جنس چیف احمد عبیدہ بھی شریک تھے اور نماز جمعہ کے بعد مہنگائی کے خلاف ریلی کا اہتمام انھی کی قیادت میں قومی محاذ برائے اصلاحات نے کیا تھا۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ''لوگ حکومت میں اصلاحات چاہتے ہیں۔ ہم اصلاحات اور تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ عبداللہ نصر عوام کی بغاوت سے قبل ہی اقتدار چھوڑ دیں''۔

حکومت مخالف ہزاروں مظاہرین نے عمان کے جمال عبدالناصر چوک کے نزدیک جمع ہو کر ایندھن قیمتوں میں حکومت کی جانب سے حالیہ اضافے کے خلاف احتجاج کیا۔ اردنی پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرے میں تین ہزار افراد شریک تھے۔ اسلامی جماعتوں نے مظاہرین کی تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ بتائی ہے مگر فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے اندازے کے مطابق مہنگائی کے خلاف ریلی میں قریباً دس ہزار افراد شریک تھے۔

مظاہرین نے پولیس کو پھول پیش کیے اور ان میں سے چند ایک نے حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا لیکن سابق وزیر اعظم عبیدہ نے انھیں اس قسم کی نعرے بازی سے روک دیا۔ واضح رہے کہ اردنی قانون کے تحت حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کرنے والوں کو عمرقید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

سابق وزیر اعظم نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم یہاں زور بازو دکھانے نہیں آئے بلکہ ہم یہاں اپنے آئینی حق کا دفاع کرنے کے لیے آئے ہیں۔ ہم رجیم میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے رہیں گے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہم جامع اصلاحات چاہتے ہیں اور ہم موجودہ بُرے انتخابی قانون کے تحت عام انتخابات یا کسی بھی اور پولنگ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں''۔ واضح رہے کہ قومی محاذ برائے اصلاحات اور اردن کی اخوان المسلمون نے تئیس جنوری کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔

اردنی حکومت نے نومبر کے اوائل میں ایندھن کی قیمتوں میں تریپن فی صد تک اضافہ کر دیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس نے ایسا بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے کیا ہے۔ اس کے خلاف تب سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ دو ہفتے قبل مہنگائی کے خلاف احتجاجی جلوسوں کے دوران بے روزگار نوجوانوں اور مظاہرین نے پولیس اسٹیشنوں اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے تھے۔ انھوں نے بعض مقامات پر کاروں اور سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کر دیا تھا۔ ایک پولیس اسٹیشن پر حملے کے دوران ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں بیسیوں افراد زخمی ہو گئے تھے۔