.

دمشق ہوائی اڈے کی جانب جانے والی شاہراہ دوبارہ کھل گئی

انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس بدستور بند، فوج اور باغیوں میں جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جبکہ حکومت نے دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جانب جانے والی شاہراہ کو دوبارہ کھول دیا ہے اور جمعہ کو دوسرے روز بھی ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سروس منقطع ہے۔

صدر بشار الاسد کی حکومت اور ان کے مخالف کارکنان نے ایک دوسرے پر ٹیلی مواصلاتی نظام کو منقطع کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔ شامی صدر کے خلاف گذشتہ بیس ماہ سے جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ پورے ملک کو بلیک آؤٹ کا سامنا ہے۔ شامی حکام اس سے پہلے صرف انہی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس اور ٹیلی فونز کو منقطع کرتے رہے ہیں جہاں انھوں نے باغیوں کے خلاف کارروائی کرنا ہوتی تھی۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ کو جمعہ کی دوپہر دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ ہوائی اڈے کے آس پاس کے قصبوں اور دیہات میں باغی جنگجوؤں اور سرکاری فوج کے درمیان رات بھر شدید جھڑپیں ہوتی رہی تھیں لیکن صبح کے وقت وہاں لڑائی کی شدت میں آ گئی تھی اور باغیوں نے متعدد فوجی گاڑیوں کو تباہ کر دیا ہے۔

آبزرویٹری نے سیٹلائٹ فون استعمال کرنے والے اپنے نمائندوں کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ دمشق کے جنوب میں واقع دو قصبوں قابون اور حجر الاسود میں بھی سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ان علاقوں میں باغیوں کی مقامی لوگوں کی حمایت حاصل ہے اور جولائی میں سرکاری فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد اب وہ دوبارہ دمشق اور اس کے نواحی علاقوں پر اپنی توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔