.

اسرائیل نے غرب اردن میں نئی یہودی بستیاں قائم کرنے کا اعلان کر دیا

یو این میں فلسطینی ریاست کو مبصر کا درجہ ملنے کا ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطینی ریاست کو اقوامِ متحدہ میں مبصر رکن کا درجہ ملنے پر اسرائیل سیخ پا ہے اور ردعمل میں تل ابیب نے مقبوضہ بیت المقدس اور غرب اردن کے علاقے میں یہودیوں کے لیے تین ہزار مکانات تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر اسرائیلی انتظامیہ نے بیت المقدس کے فلسطینیوں کو یو این میں حالیہ کامیابی کا جشن منانے سے سے روک دیا ہے۔



العربیہ کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کے سینیئر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تل ابیب کو محمود عباس کی جانب سے عالمی ادارے سے رجوع پر سخت صدمہ ہے۔ اسرائیلی حکومت نے صدر ابو مازن کے اقدام کے ردعمل میں مشرقی بیت المقدس اور غرب اردن میں یہودی آباد کاروں کے لیے مزید تین ہزار مکانات کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔



خیال رہے کہ جمعرات کے روز صدر محمود عباس نے فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ میں مبصر کا درجہ دلوانے کے لیے درخواست دی تھی جو بھاری اکثریت سے منظور کر لی گئی تھی۔ قرارداد کے حق میں 138 اور مخالفت میں صرف نو ووٹ ڈالے گئے۔ اکتالیس رکن ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔



العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق فلسطینی ریاست کو یو این میں مبصر رکن کا درجہ ملنے پر فلسطینی شہروں میں جشن کا سماں ہے لیکن صہیونی حکومت نے بیت المقدس کے شہریوں کو جشن منانے سے روک دیا ہے۔



ادھر اعلی فلسطینی مذاکرات کار صائب عریقات کا کہنا ہے کہ غیر مستقل رکن کا درجہ ملنا فلسطینیوں کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ کامیابی طویل جدو جہد کا ثمر بھی ہے۔ یو این میں فلسطینیوں کی یہ سفارتی کامیابی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے اصول تبدیل کر دے گی۔



فلسطین کو غیر رکن مبصر کا درجہ ملنے کے بعد عالمی سطح پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ عالمی برادری نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اب مذاکرات کی میز پر آئیں۔ فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے کا کہنا کہ اقوام متحدہ میں ہونے والی پیش رفت کے بعد اب امن بات چیت کا سلسلہ غیر مشروط طور پر بحال ہونا چاہیے۔