.

نوری المالکی کو فوج کو پولیس امور میں ملوث کرنے کا اختیار نہیں طالبانی

''علاحدگی غیر حقیقت پسندانہ اور ناقابل عمل نعرہ ہے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کے صدر اور مسلح افواج کے جنرل کمانڈر جلال طالبانی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نوری المالکی کو فوج کو پولیس کے امور میں ملوث کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

انھوں نے یہ بات العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔جلال طالبانی نے خودمختار کردستان کی صوبائی حکومت اور عراق کی مرکزی حکومت کے درمیان متنازعہ علاقے میں حال ہی میں دجلہ آپریشنز کمانڈ کی تشکیل کے حوالے سے اظہار خیال کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''یہ اقدام ان کے اختیارات میں مداخلت ہے کیونکہ ان کی منشاء کے بغیر ہنگامی حالت کا اعلان ان کے اختیارات کی خلاف ورزی ہے اور وزیراعظم صرف اپنے طور پر ایسا اقدام نہیں کرسکتے''۔

کردصدر نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ عراق کی بری افواج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل علی غیدان نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت تمام مقامی فورسز اور پولیس کو دجلہ آپریشنز کمانڈ کے زیر کمان کر دیا گیا ہے اور یہ دراصل ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان ہی ہے۔

جلال طالبانی نے کہا کہ نوری المالکی اعلان جنگ نہیں چاہتے اور وہ ایسا کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔تاہم انھوں نے عراقی حکومت کے اس اقدام کو عجلت پسندانہ ،دھماکا خیز اور غیر ذمے دارانہ قرار دیا اور کہا کہ اس پر کرد سخت ردعمل کا اظہار کرسکتے ہیں اور کوئی بھی معمولی واقعہ ایک بحران کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

کرد، شیعہ اتحاد

عراق کی مرکزی حکومت اور کردستان حکومت کے درمیان مذکورہ فیصلے سے پیدا ہونے والی بدمزگی سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کرد، شیعہ اتحاد میں رخنہ آ سکتا ہے لیکن صدر طالبانی نے کہا کہ ان دونوں کے درمیان برطانوی قبضے کے بعد سے تاریخی تعلقات چلے آ رہے ہیں اور معاشرے میں اس کی جڑیں گہری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اتحاد مذہبی کی بنیاد پر نہیں بنا تھا بلکہ یہ کرد، عرب اتحاد ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ سنی شیعہ اتحاد ہے کیونکہ کرد سنی ہیں۔مزید برآں یہ ملک کے شمال ،وسط اور جنوب کے درمیان بھی اتحاد ہے۔اس کو تاریخ اور حقائق سے بے بہرہ لوگ عدم استحکام سے دوچار نہیں کر سکتے۔

ڈس کریڈٹ مالکی

عراقی صدر نے کہا کہ میں ہنوز اس بات کے خلاف ہوں کہ صدر جمہوریہ پارلیمان کو وزیر اعظم کو ڈس کریڈٹ کرنے کا کہے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی نامزدگی کا اختیار صدر کو حاصل نہیں ہے بلکہ پارلیمان کے اکثریتی بلاک کو یہ حق حاصل ہے۔اس لیے اگر وہ پارلیمان سے نوری المالکی کو ڈس کریڈٹ کرنے کے لیے کہتے ہیں تو یہ انھیں نامزد کرنے والے قومی اتحاد کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ کوئی اور قومی اتحاد سے وزیراعظم نوری المالکی سے اپنا موجودہ رویہ تبدیل کرنے کے لیے کہے یا پھر انھیں ان کے عہدے سے تبدیل کردیا جائے۔

کرد اور عراقی حکومت

عراقی حکومت کو مسلح کرنے سے متعلق کردوں کے تحفظات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ''ہم ایک مضبوط عراق چاہتے ہیں اور اس ضمن میں اس بات سے خوفزدہ نہیں کہ عراق کی مرکزی حکومت اسلحے کے حصول کے لیے کیا معاہدے کرتی ہے''۔

انھوں نے بتایا کہ کردستان کی صوبائی حکومت ایک قسم کا رابطہ چاہتی ہے اور حاصل کیے جانے والے اسلحہ کے استعمال سے متعلق یقین دہانی چاہتی ہے۔

کرد اور آزادی

جلال طالبانی نے کہا کہ ''میں پیٹریاٹک یونین آف کردستان (پی یو کے) کا سیکرٹری ۳جنرل ہوں۔یہ جماعت اپنے قیام کے بعد سے کردعوام کے لیے حق خود اختیاری کا مطالبہ کرتی چلی آ رہی ہے۔ کردوں نے اس وقت اپنے اس حق کا استعمال کیا تھا جب انھوں نے آزادانہ طور پر عراقی فیڈریش کے حق میں ووٹ دیا تھا''۔

لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ''میں لوگوں کو ایک آزاد ریاست کے خواب دیکھنے سے نہیں روک سکتا۔ البتہ بطور سیاست دان میں سمجھتا ہوں کہ فیڈریشن کرد نصب العین کا بہترین حل ہے۔اس سے کردعوام کی خدمت کے علاوہ ان کی خواہشات کی بھی تکمیل ہوئی ہے''۔

صدر جلال طالبانی نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ ''علاحدگی ایک غیر حقیقت پسندانہ نعرہ ہے اور اس پر عمل نہیں کیا جا سکتا''۔