.

کویت سال میں دوسرے پارلیمانی انتخابات، اپوزیشن کا بائیکاٹ

پچاس نشستوں کے لیے 279 امیدواروں کے درمیان مقابلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
خلیجی ریاست کویت میں سیاسی بحران کے تناظر میں پارلیمنٹ (مجلس امہ) کے لیے ایک سال میں دوسری مرتبہ انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ ہفتے کے روز ہونے والی پولنگ میں مجموعی طور پر چار لاکھ 22 ہزار رجسٹرڈ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جب کہ پارلیمنٹ کی کل 50 نشستوں میں سے پر 279 امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا۔ اپوزیشن نے انتخابی عمل کا مکمل طور پر بائیکاٹ کر دیا تھا۔



کویت سے العربیہ ٹی وی کے نامہ نگار نے بتایا کہ ہفتے کے روز ہوئی پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ انتخابی عمل کے تمام مراحل میں ججوں اور پندرہ ممالک کے مبصرین کو نگرانی کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔



اپوزیشن کے بائیکاٹ کے باعث تمام نشستوں پر حکومت نواز اراکین پارلیمان کی کامیابی کے امکانات ہیں۔ حزب مخالف گروپوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بائیکاٹ کے نتیجے میں پولنگ کا عمل 70 فی صد متاثر ہوا ہے جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ٹرن آؤٹ پچاس فی صد سے زیادہ رہا ہے۔



بعض حلقوں میں پولنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق شام آٹھ بجے تک جاری رہا ہے۔ پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے 14 نشستوں کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے اور ایک امیدوار صرف ایک ہی حلقے سے انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے۔



خیال رہے کہ کویت میں سیاسی بحران کے باعث پارلیمنٹ کے دس ماہ میں دوسرے انتخابات ہیں۔ چند ماہ قبل سیاسی بحران کے نتیجے میں امیر کویت نے پارلیمنٹ بر تحلیل کر دی تھی جس کے بعد یکم دسمبر کو دوبارہ پارلیمانی انتخابات کا اعلان کیا گیا تھا۔



انتخابی عمل اور پارلیمنٹ کے امیدواروں کے حوالے سے دستور میں ترمیم کے خلاف اپوزیشن نے پہلے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ ہفتے کے روز کویت کے بعض شہروں میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔



سابقہ دستور کے مطابق ایک ووٹر چار امیدواروں کو ووٹ دینے اور ایک امیدوار ایک سے زائد حلقوں سے انتخابات میں حصہ لینے کا اہل تھا لیکن آئین میں ترمیم کرنے کے بعد اب ووٹر صرف ایک امیدوار کو ووٹ دے سکتا ہے جبکہ امیدوار بھی صرف ایک ہی حلقے سے ووٹ لینے کا حق دار ہے۔