.

محمود عباس کی اردنی شاہ سے ملاقات، آیندہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال

رام اللہ آمد پر فلسطینی صدر کا شاندار استقبال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطین کے صدر محمود عباس اقوام متحدہ میں نمایاں کامیابی کے بعد نیویارک سے واپس پہنچ گئے ہیں اور انھوں نے اتوار کو مغربی کنارے کے شہر رام اللہ پہنچنے کے بعد عمان کا مختصر دورہ کیا ہے۔ وہاں انھوں نے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کی اور ان سے اپنے آیندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

انھوں نے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے شاہ عبداللہ دوم سے اقوام متحدہ میں فلسطین کو غیر مبصر رکن ملک کا درجہ دلانے کے لیے کوششوں اور آیندہ لائحہ عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''ہمیں بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے اور اردن کے درمیان ابلاغ اور تنظیم اعلیٰ ترین سطح پر ہونی چاہیے''۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گذشتہ جمعرات کو فلسطینی ریاست کو غیر رکن مبصر کا درجہ دینے کی منظوری دی تھی۔ صدر محمود عباس نے عالمی ادارے میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ فلسطینی ریاست کا ''پیدائش کا سرٹیفکیٹ'' جاری کرے۔

''اب ہماری ریاست ہے''

قبل ازیں اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کی عبوری رکنیت کی منظوری کے بعد صدر محمود عباس مغربی کنارے کے شہر رام اللہ واپس پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔انھوں نے اپنے مداحوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''فلسطینیوں نے اقوام متحدہ میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہے''۔

انھوں نے پرجوش انداز سے تقریر میں کہا کہ ''دنیا نے بلند آہنگ آواز میں فلسطینی ریاست کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ انھوں نے فلسطین کی آزادی کےحق اور جارحیت، یہودی بستیوں اور قبضے کے خلاف ووٹ دیا ہے''۔

محمود عباس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ میں کامیابی کے بعد اب ان کی اولین ذمے داری ہو گی کہ فلسطینی دھڑوں کے درمیان اتحاد کے لیے کام کیا جائے اور وہ فتح اور حماس کے درمیان مصالحتی کوششوں کو از سر نو بروئے کار لائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ہم آنے والے دنوں میں مصالحت کے لیے درکار اقدامات کا جائزہ لیں گے۔ ان کی تقریر کے دوران استقبالیہ ہجوم کے شرکاء فلسطینی دھڑوں کے درمیان اتحاد کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ لوگ تقسیم کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

فلسطینی ریاست کا درجہ مبصر سے بڑھ کر غیر ریاستی مبصر رکن ہوجانے کے بعد اب وہ عالمی فوجداری عدالت ( آئی سی سی) جیسے بین الاقوامی اداروں کا رکن بن سکتی ہے اور اس سے اسرائیل کے لیے سنگین مضمرات ہوسکتے ہیں کیونکہ اس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور غزہ کی پٹی کا محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے۔

حال ہی میں اس نے غزہ پر جارحانہ جنگ مسلط کی تھی۔ان اقدامات پر اس سے عالمی اداروں میں باز پرس ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اس کے پشتی بان ملک امریکا نے فلسطین کا اقوام متحدہ میں درجہ بڑھانے کی شدید مخالفت کی تھی۔