.

مصر مشرقی ریجن کی عدلیہ نے ریفرنڈم کی حمایت کر دی

پراسیکیوشن برانچ سروے میں اپنی رائے کا اظہار کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے ججز کلب [مشرقی ریجن] کے چیئرمین ھشام القرموطی نے کہا ہے کہ وہ جدید مصر کے کے بارے میں ہونے والے دستوری ریفرنڈم کی نگرانی کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔ عدلیہ کے کسی اعلی عہدیدار کی جانب سے پندرہ دسمبر کو ہونے والے دستوری ریفرنڈم کے بارے میں یہ پہلا مثبت بیان ہے۔

القرموطی نے کہا کہ وہ دستور کے بارے میں ریفرنڈم کی حمایت کرتے ہیں۔ مصری روزنامہ 'الیوم السابع' کے مطابق جج القرموطی نے کہا کہ ریفرنڈم کی نگرانی کے ذریعے وہ امت اورملک کے بارے فریضہ مقدس سمجھ کر انجام دیں گے۔

ججز کلب کے چیئرمین جسٹس احمد الزند نے اتوار کی شام ایک نیوز کانفرنس میں ریفرنڈم کے بارے میں عدلیہ کے موقف سے آگاہ کرنا تھا کہ کلب کے مشرقی ریجن کے نگران نے مجوزہ ریفرنڈم کو خوش آئند فیصلہ قرار دیتے ہوئے اس کی نگرانی کو اپنے لئے خوش کن امر قرار دے دیا۔

ہفتے کے روز مجوزہ دستور کا مسودہ وصول کرنے کے بعد انہوں نے پندرہ دسمبر کو اس پر عوامی ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ عدلیہ اس ریفرنڈم کی نگرانی کا فریضہ دستوری ذمہ داری کے طور پر ادا کریں گے۔ ججز کلب کی اپیل پر عدلیہ نے صدر مرسی کے 22 نومبر کو جاری کردہ فرامین کے خلاف بطور احتجاج عدالتی کارروائی بند کر رکھی ہے۔

ادھر نئے اٹارنی جنرل طلعت عبداللہ نے جنرل پراسیکیوشن کے عملے کو ایک سروے فارم بھجوایا ہے تاکہ دستوری ریفرنڈم کی نگرانی کے بارے میں ان کا نقطہ نظر جانا جا سکے۔

سروے فارم میں پراسیکیوشن برانچ کا عملہ اپنے نام کے آگے دیئے گئے دو آپشن میں سے ایک پر نشان لگائے گا۔ عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پراسیکیوشن کے اہلکاروں کی بڑی اکثریت دستوری ریفرنڈم کی نگرانی کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی، اس لئے وہ دونوں آپشن کے بجائے درمیانی راہ چن رہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ججز کلب اور سپریم جوڈیشل کونسل کی ریفرنڈم کے معاملے پر رائے کا اتنظار کریں۔