.

اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کو واجب الادا ٹیکس روک لیے

فلسطینی انتظامیہ کا اظہار لاعلمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطینی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا ہے کہ اسرائیل نے گذشتہ ماہ کے اپنے ذمہ واجب الادا ٹیکس انتظامیہ کو ادا نہیں کیے ہیں۔ تاخیر سے فلسطینی حلقوں میں یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ تل ابیب نے واجب الادا ٹیکس کی مد میں رقوم روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ طور پر اسرائیلی ٹیکس روکے جانے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

رام اللہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک اسرائیل نے ایسے کسی فیصلے سے آگاہ نہیں کیا ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیل نے دھمکی دی تھی کہ اگر صدر محمود عباس نے فلسطینی ریاست کو جنرل اسمبلی میں مبصر رکن کا درجہ دلوانے کے لیے درخواست دی تو وہ نہ صرف اپنے ذمہ واجب الادا ٹیکس روک لیں گے بلکہ فلسطینی اتھارٹی پر معاشی پابندیاں عائد کریں گے۔



کثیر الاشاعت عبرانی اخبار 'ہارٹز' نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ تل ابیب نے فلسطین اتھارٹی کے لیے واجب الادا 120 ملین ڈالر روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ رقم فلسطینی پاور کمپنیوں کو فراہم کردہ بجلی کے بلوں کی مد میں کاٹی جا رہی ہے جو کہ پہلے سے واجب الوصول تھے۔ تاہم اس کا فلسطینی صدر کے جنرل اسمبلی سے رجوع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔



صہیونی حکومت کے دوسرے ذمہ دار ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی سے واجب الوصول قرضوں کی ٹیکس کی رقوم سے کٹوتی دراصل اسرائیل کا صدر محمود عباس کے جنرل اسمبلی سے رجوع کا جوابی اقدام ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل کی مختلف بندرگاہوں اور راہداریوں سے سامان رسد کی فلسطینی شہروں میں ترسیل پر صہیونی حکام ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ معاہدے کے مطابق بعد ازاں ان ٹیکسوں میں سے ایک مخصوص رقم فلسطینی اتھارٹی کو بھی ادا کی جاتی ہے۔ اسرائیل سے ملنے والے ٹیکسوں کی رقوم، مقامی ٹیکس اور عالمی امداد ہی رام اللہ انتظامیہ کی اصل آمدن سمجھی جاتی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے معاشی پابندیوں کی صورت میں رام اللہ کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔



فلسطینی اتھارٹی کا سالانہ بجٹ چار ارب ڈالر ہے جبکہ اتھارٹی ہر سال ایک ارب ڈالر کے خسارے میں رہتی ہے۔ حکومت پر قرض کا بھی اضافی بوجھ ہے جو ایک ارب بیس کروڑ ڈالرز سے متجاوز ہے۔