.

مصر سپریم جوڈیشیل کونسل کا ریفرینڈم کی نگرانی سے اتفاق

صدر مخالف ججوں اور حزب اختلاف کے لیے دھچکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی سپریم جوڈیشیل کونسل نے ملک کے نئے مجوزہ آئین پر پندرہ دسمبر کو ہونے والے ریفرینڈم کی نگرانی سے اتفاق کیا ہے اور اس مقصد کے لیے جج مقرر کرنےکا اعلان کیا ہے۔

مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا کی رپورٹ کے مطابق صدر محمد مرسی کے قانونی مشیر محمد جاد اللہ نے بتایا ہے کہ ''سپریم جوڈیشیل کونسل نے اپنا اجلاس منعقد کیا ہے اور اس میں آئین پر ریفرینڈم کی نگرانی کے لیے جج مقرر کرنے سے اتفاق کیا گیا ہے''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ریفرینڈم کی نگرانی کے لیے قریباً دس ہزار جج صاحبان درکار ہوں گے۔صدر مرسی کے مشیر کے اس بیان پر جوڈیشیل کونسل کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے لیکن اسے صدر کے مخالف ججوں اور حزب اختلاف کے لیے ایک دھچکا قرار دیا گیا ہے کیونکہ مصری ججوں کے کلب نے صدر مرسی کی حکومت کے اقدامات کے خلاف احتجاج کے طور پر ریفرینڈم کے موقع پر فرائض انجام نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

حزب اختلاف کے گروپوں نے آئین کے مسودے اور اس پر صدر محمد مرسی کی جانب سے پندرہ دسمبر کو ریفرینڈم منعقد کرانے کے خلاف منگل کو قاہرہ میں صدارتی محل اور میدان التحریر میں احتجاجی ریلیاں نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

درایں اثناء مصر کی وزارت خارجہ کے ترجمان عمرو رشدی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ دوسرے ممالک میں مقیم مصری تارکین وطن آیندہ ہفتے سے ریفرینڈم پر اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔ اس سلسلہ میں مصری سفارت خانوں کے اوقات کار کا دورانیہ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔

مصر کی دستوری عدالت عظمیٰ کے ججوں نے نفسیاتی دباؤ کے بعد گذشتہ روز غیر معینہ مدت کے لیے کام چھوڑ دیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک وہ کسی نفسیاتی اور مادی دباؤ کے بغیر مقدمات کے فیصلے سنانے اور پیغام کے ابلاغ کے قابل نہیں ہوجاتے،اس وقت تک وہ اپنے فرائض انجام نہیں دیں گے۔



دستوری عدالت عظمیٰ کی جانب سے یہ اعلان اس کے دستور ساز اسمبلی کی حیثیت کے بارے میں فیصلے کو ملتوی کرنے کے حکم کے چند گھنٹے کے بعد سامنے آیا تھا۔صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں نے قاہرہ میں دریائے نیل کے کنارے واقع دستوری عدالت عظمیٰ کے ہیڈکوارٹرز کے باہر جمع ہوکر سخت نعرے بازی کی تھی اور ججوں کو عدالت میں جانے سے روک دیا تھا۔ججوں نے الزام عاید کیا کہ ان کے اس احتجاج کا واضح مقصد عدالت عظمیٰ کو آئین ساز اسمبلی سے متعلق کوئی فیصلہ سنانے سے روکنا تھا۔

انیس جج صاحبان پر مشتمل دستوری عدالت عظمیٰ نے آئین ساز اسمبلی کی ہئیت ترکیبی کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کی تھی اوروہ متوقع طور پراتوار کو اس کے بارے میں کوئی حکم جاری کرنے والی تھی۔

صدر مرسی کے حامی مظاہرین کے اس رویے کے خلاف مصری پریس کے بعض حلقوں نے کڑی تنقید کی ہے اور ایک روزنامے الشروق نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ''جب اسلام پسند مظاہرین نے سپریم آئینی عدالت کا محاصرہ کر لیا اور ججوں کو اس کے اندر داخل ہونے سے روک دیا تو یہ جان لیجیے کہ ایک فاشسٹ ریاست کے قیام کے بیج بو دیے گئے ہیں''۔

گیارہ آزاد اور حزب اختلاف کے حامی روزناموں نے حکومت کے خلاف احتجاج کے طور پر منگل کو اخبار شائع نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔حزب اختلاف کے حامی اخبارات میں نئے آئین کے مسودے پر بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ نہ دینے اور شرعی قوانین کی سخت تعبیر پر تنقید کی جا رہی ہے۔

لیکن حکمراں اخوان المسلمون کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ آئین کے مسودے کو بے جا طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور لبرل حلقے کسی قسم کی لچک دکھانے کو تیار نہیں۔انھوں نے ججوں پر سابق صدر حسنی مبارک کی باقیات ہونے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جمہوری عمل کی راہ روکنا چاہتے ہیں اور عوام کی اکثریت کی آراء کے منافی اقدامات کر رہے ہیں۔