.

یہودی بستیوں میں توسیع برطانیہ،فرانس میں اسرائیلی سفراء کی طلبی

یہودیوں کے لیے نئے مکانوں کی تعمیر کے اعلان پر شدید ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
برطانیہ اور فرانس نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر میں توسیع پر احتجاج کے لیے اپنے ہاں متعین اسرائیلی سفراء کو طلب کیا ہے۔

لندن میں متعین اسرائیلی سفیر کی طلبی سے قبل برطانوی دفتر خارجہ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا کہ ''اسرائیل کے یہودی بستیوں کی تعمیر میں توسیع کے منصوبے کے خلاف سخت ردعمل پر غور کیا جا رہا ہے''۔

ذرائع ابلاغ میں یہ قیاس آرائی بھی کی جا رہی ہے کہ برطانیہ، اسرائیل میں متعین اپنے سفیر کو واپس بلا سکتا ہے۔ ایک سفارتی ذریعے کا کہنا ہے کہ برطانوی سفیر کی واپسی سے متعلق رپورٹس محض قیاس آرائی پر مبنی ہیں اور اس حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے لیکن اسے ایک آپشن خیال کیا جا سکتا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے برطانوی دفتر خارجہ کے ترجمان کا بیان نقل کیا ہے۔ اس میں انھوں نے کہا کہ ''خارجہ سیکرٹری ولیم ہیگ مسلسل یہ بات واضح کرتے چلے آ رہے ہیں کہ یہودی بستیوں کی تعمیر اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے تین ہزار نئے مکانوں کی تعمیر کے فیصلے سے دو ریاستی حل کے لیے خطرات پیدا ہو جائیں گے اور مذاکرات کے ذریعے پیش رفت مشکل ہو جائے گی''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''ہم اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ ہم نے اسرائیلی حکومت کو بتا دیا ہے کہ اگر انھوں نے اپنے اس فیصلے پر عمل درآمد کیا تو اس کا سخت ردعمل ہو گا''۔

واضح رہےکہ اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں گذشتہ جمعہ کو یہودی آبادکاروں کے لیے تین ہزار نئے مکانوں کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ ایک اسرائیلی عہدے دار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ فلسطین کو اقوام متحدہ میں غیر رکن ریاستی مبصر کا درجہ دینے کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

درایں اثناء فرانس نے پیرس میں متعین اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے یہودی آبادکاروں کے لیے نئے مکانوں کی تعمیر کے منصوبے پر احتجاج کیا ہے۔

تاہم فرانسیسی حکومت نے ان رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے یہودی بستیوں میں توسیع کے فیصلے کے ردعمل میں اسرائیل سے فرانسیسی سفیر کو واپس بلایا جا سکتا ہے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار نے کہا کہ ''اس کے علاوہ اور بھی طریقے ہیں جن کے ذریعے ہم اپنی ناراضی کا اظہار کر سکتے ہیں''۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے اتوار کو ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے یہودی بستیوں میں توسیع کے منصوبے پر عمل درآمد کیا تو اس کے فلسطینیوں کے ساتھ امن کے لیے بہت گہرے مضمرات ہوں گے۔ انھوں نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف حصوں اور بیت المقدس میں نئے مکانوں کی تعمیر کے اعلان پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہودی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔ بین کی مون کی جانب اسے اسرائیل کے خلاف یہ غیر معمولی سخت ردعمل تھا۔