.

10 سرکردہ شامی تاجر جمع پونجی سمیت مصر فرار

'شام کی ایک تہائی معیشت قاہرہ منتقل ہو چکی ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے پریشان ٹاپ 10 تاجر ملک چھوڑ کر مصر نقل مکانی کر گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے مصر میں مقیم سیاسی رضاکار خلیل العجیلی نے بتایا کہ تحفظ کے پیش نظر ان کاروباری شخصیات کے نام منکشف نہیں کئے جا سکتے۔

صدر بشار الاسد کے پنجہ استبداد سے بچا کر اپنا مال مصر منتقل کرنے والے شامی برنس مین اب اس الجھاؤ کا شکار ہیں کہ وہ اپنا سرمایہ رئیل اسٹیٹ، اسٹاک ایکسچینج یا پھر صنعتی شعبے میں لگائیں۔ مصرمنتقل ہونے والے بعض شامی کاروباری شخصیات نے مصر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے منصوبوں میں سرمایہ لگایا ہے جبکہ کچھ شامی شہری اپنا سرمایہ پرچون کاروبار میں لگا کر زندگی کرنے میں کوشاں ہیں۔

خلیل العجیلی کے مطابق مصر نقل مکانی کرنے والے اکثر شامیوں کا تعلق سرمایہ دار طبقے سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاکھوں ملین ڈالر حالیہ دنوں میں شام سے مصر لائے گئے ہیں تاہم ان کی حتمی مالیت بتانا مشکل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شام میں انقلابی تحریک کے آغاز سے ابتک ایک تہائی شامی معیشت مصر منتقل ہو چکی ہے لیکن ان اعداد و شمار کی کسی آزاد ذریعے سے تصدیق یا تردید ممکن نہیں ہو سکی۔ 'بڑے شامی تاجر مصری اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ لگا رہے ہیں یا پھر اپنا سرمایہ مصری بنکوں میں جمع کرا چکے ہیں تاکہ کسی مناسب سرمایہ کاری منصوبے کا تعین کر سکیں۔

مصرمیں شامی سرمایہ کاری 400-500 ملین ڈالرکے درمیان ہے۔ مصری بنکوں میں اکاؤنٹ کھلوانے والوں کی بڑی تعداد کی بنا پر بعض حلقوں کا کہنا ہے مصر میں شامی سرمایے کی مالیت اس سے بہت زیادہ ہے۔

شامی کاروباری شخصیت اور مصر میں شامی انقلاب کوارڈی نیشن کمیٹی کے سربراہ نزاد الخراط نے بتایا کہ بہت سے شامی بزنس مین اور سرمایہ کار اپنے کاروباری ٹھکانوں اور فیکٹریوں پر اسدی فوج کی گولا باری اور بمباری کے بعد مصر منتقل ہوئی ہے۔ ہم مصر میں شامی کاروباری افراد کا ایک فورم تشکیل دے رہے ہیں۔ مصر منتقل ہونے والے شامیوں کی بڑی تعداد کا تعلق حلب شہر سے ہے۔

مصر میں شامی سرمایہ کار اور دمشق چیمبر آف کامرس کے سابق چیئرمین اور شام کی عبوری کونسل کے رکن سام الکویفی کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں میں شامی سرمایہ کاروں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

ادھر شامی انوسٹمنٹ بورڈ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری 2012 سے ستمبر تک کی مدت کے دوران شام میں سرمایہ کاری منصوبے بند ہوئے ہیں۔ ان منصوبوں کی بندش کی وجہ ملک میں سلامتی کی صورتحال اور دمشق کے خلاف عائد بین الاقوامی پابندیاں بتائی جاتی ہیں۔