.

قاہرہ صدارتی محل کے نزدیک پولیس اور مرسی مخالف مظاہرین میں جھڑپیں

صدارتی محل کی جانب ہزاروں حکومت مخالفین کا مارچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں صدر محمد مرسی کے کے اختیارات میں اضافے اور نئے آئین کے مسودے پر ریفرینڈم کے خلاف ہزاروں افراد احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں اور صدارتی محل کے نزدیک پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد مظاہرین زخمی ہو گئے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق مظاہرین نے صدارتی محل کے باہر پولیس کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہٹا دیں اور صدارتی محل کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے انھیں روک دیا جس کے بعد ان کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔العربیہ کے نمائندے نے دس افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔

قاہرہ کی شاہراہوں پر ہزاروں افراد صدر محمد مرسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں شریک تھے۔ وہ ان کے خلاف سخت نعرے بازی کر رہے تھے اور ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔انھوں نے ملک کی سب سے منظم جماعت اخوان المسلمون کے خلاف بھی نعرے بازی کی اور اس پر انقلاب کو بیچنے کا الزام عاید کیا۔

صدر مخالف مظاہروں کو منظم کرنے والی تنظیم کا کہنا ہے کہ منگل کی سہ پہر مقامی وقت کے مطابق چار بجے کے قریب قاہرہ کی مختلف مساجد سے پانچ ریلیاں صدارتی محل کی جانب روانہ ہوئی تھیں۔ مصر کے لبرل اور سیکولر جماعتوں نے ان مظاہروں کی اپیل کی تھی اور ان کے ہزاروں حامی مرد و خواتین ان میں شریک تھے۔

قاہرہ میں حزب اختلاف کے مظاہرے کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور صدارتی محل کے ارد گرد پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ اسکول اور دفاتر صبح کے وقت ہی بند کردیے گئے تھے۔

درایں اثناء مصری ججوں کے کلب کے چئیرمین کونسلر احمد الزند نے آج قاہرہ میں ایک نیوزکانفرنس کے دوران کہا ہے کہ صدر محمد مرسی نے اپنے جاری کردہ آئینی اعلامیے کو منسوخ نہ کیا تو جج پندرہ دسمبر کو ہونے والے ریفرینڈم کا بائیکاٹ کردیں گے۔

انھوں نے ججوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ''شفاف'' ہیں اور موجودہ بحران میں ان کے کوئی ذاتی مفادات نہیں ہیں۔ان کے بہ قول موجودہ بحران کو مسلط کیا گیا ہے۔ دوسری جانب اخوان المسلمون اور دوسری اسلامی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ''جج آزاد نہیں ہیں اور وہ سابق حکومت کی باقیات کے ساتھ تعاون کررہے ہیں''۔

مصر کی سپریم جوڈیشیل کونسل نے گذشتہ روز ججز کلب کے موقف کے برعکس ملک کے نئے مجوزہ آئین پر پندرہ دسمبر کو ہونے والے ریفرینڈم کی نگرانی سے اتفاق کیا تھا اور اس مقصد کے لیے جج مقرر کرنےکا اعلان کیا تھا۔ اس فیصلے کو صدر کے مخالف ججوں اور حزب اختلاف کے لیے ایک دھچکا قرار دیا گیا ہے۔

مصر کے گیارہ آزاد اور حزب اختلاف کے حامی روزناموں نے حکومت کے خلاف احتجاج کے طور پر منگل کو اخبار شائع نہیں کیے۔حزب اختلاف کے حامی اخبارات میں نئے آئین کے مسودے پر بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ نہ دینے اور شرعی قوانین کی سخت تعبیر پر تنقید کی جا رہی ہے۔