.

اخوان المسلمون کی صدارتی محل کے باہر مظاہرے کی اپیل

حکومت مخالفین کی جارحانہ اور غلیظ نعرے بازی کا ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی حکمراں جماعت اخوان المسلمون نے قاہرہ میں احتجاجی ریلی کے دوران حزب اختلاف کی جانب سے جارحانہ نعرے بازی اور صدارتی محل کے باہر دھرنے کے ردعمل میں بدھ کو مظاہرے کی اپیل کی ہے۔

اخوان المسلمون کے ترجمان محمود غزلان نے جماعت کے سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بُک پر موجود صفحے پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ''صدارتی محل کے باہر ان گروپوں نے غلیظ زبان استعمال کی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ طاقت کے ذریعے اپنے نقطہ نظر کو دوسروں پر مسلط کرسکتے ہیں''۔

حکومت مخالف ہزاروں افراد نے گذشتہ روز صدارتی محل کے باہر دھرنا دیا تھا اور ان میں سے سیکڑوں نے رات وہیں گزاری تھی۔ان کے علاوہ صدر مرسی کے سیکڑوں مخالفین نے میدان التحریر میں بھی رات گزاری ہے اور انھوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ صدر مرسی کی جانب سے متنازعہ اعلامیے کو واپس لینے تک وہاں سے گھروں کو واپس نہیں جائیں گے۔ان کے لیے سماجی روابط کی ویب سائٹس پر کمبل اور کھانے پینے کی اشیاء بھیجنے کی اپیل کی گئی تھی۔

حزب اختلاف کے قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر دھرنے کے بعد صدر محمد مرسی وہاں سے چلے گئے تھے اور ان کے بارے میں آج بدھ کو بتایا گیا ہے کہ وہ وہاں دوبارہ واپس آگئے ہیں۔

گذشتہ روز صدر محمد مرسی کے اختیارات میں اضافے اور نئے آئین کے مسودے پر ریفرینڈم کرانے کے اعلان کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ وہ صدر مرسی کے خلاف سخت نعرے بازی کررہے تھے اور ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے تھے۔انھوں نے ملک کی سب سے منظم جماعت اخوان المسلمون کے خلاف بھی نعرے بازی کی اور اس پر انقلاب کو بیچنے کا الزام عاید کیا۔

مظاہرین نے صدارتی محل کے باہر پولیس کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی تھی جس کے بعد پولیس اور ان کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی تھی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے۔العربیہ کے نمائندے نے دس افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔

مصری ججوں کے کلب کے چئیرمین کونسلر احمد الزند نے حزب اختلاف کی حمایت میں گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ صدر محمد مرسی نے اپنے جاری کردہ آئینی اعلامیے کو منسوخ نہ کیا تو جج پندرہ دسمبر کو ہونے والے ریفرینڈم کا بائیکاٹ کردیں گے۔

انھوں نے ججوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ''شفاف'' ہیں اور موجودہ بحران میں ان کے کوئی ذاتی مفادات نہیں۔ ان کے بہ قول موجودہ بحران کو مسلط کیا گیا ہے۔ دوسری جانب اخوان المسلمون اور دوسری اسلامی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ''جج آزاد نہیں ہیں اور وہ سابق حکومت کی باقیات کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں''۔

مصر کی سپریم جوڈیشیل کونسل نے سوموار کو ججز کلب کے موقف کے برعکس ملک کے نئے مجوزہ آئین پر پندرہ دسمبر کو ہونے والے ریفرینڈم کی نگرانی سے اتفاق کیا تھا اور اس مقصد کے لیے جج مقرر کرنےکا اعلان کیا تھا۔اس فیصلے کو صدر کے مخالف ججوں اور حزب اختلاف کے لیے ایک دھچکا قرار دیا گیا ہے۔