.

اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں جامع مسجد دوسری مرتبہ شہید کر دی

مقامی شہری مسجد کو تیسری مرتبہ تعمیر کرنے کے لئے پرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اہالیاں مقبوضہ فلسطین کو دباؤ میں رکھنے اور یہودیت کے فروغ کی خاطر اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق صہیونی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی شہر الخلیل کی جامع مسجد المقفرہ کو بغیر اجازت نامہ تعمیر کرنے کا بہانہ بنا کر سال میں دوسری مرتبہ شہید کر دیا دوسری جانب مقامی شہریوں کا دعوی کیا ہے کہ ان کے پاس مسجد کی تعمیر کا اجازت نامہ موجود ہیں اور وہ تیسری مرتبہ مسجد تعمیر کرکے رہیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں یطا کے مقام پر جامع مسجد المقفرہ کو صہیونی حکام نے دو سال قبل بھی شہید کر دیا تھا، تاہم شہریوں نے اسی جگہ دوبارہ مسجد تعمیر کر لی۔ مسجد کی تعمیر مکمل ہوتے ہی اسرائیلی بلڈوزروں نے اسے شہید کر دیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق منگل کو اسرائیلی فوجیوں کی بڑی تعداد نے یطا کے مقام پر مسجد کا گھیراؤ کیا اور بلڈوزروں کی مدد سے اسے منٹوں میں شہید کر دیا۔ مسجد میں موجود قرآن کریم، کتب احادیث اور دوسری اشیاء کو نکالنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ فلسطینیوں نے صہیونی فوج کی اس ننگی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں مسجد کو تیسری بات تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا۔

یطاء بلدیہ میں امنتاع یہودی آبادکاری کی مقامی کمیٹی کے سربراہ راتب الجبور نے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے علی الصباح مسجد کا محاصرہ کیا اور بعد ازاں اسے بلڈوزروں کی مدد سے شہید کر دیا۔ الجبور نے بتایا کہ مسجد المقفرہ کو دو سال قبل بھی صہیونی حکام نے یہ کہہ کر شہید کر دیا تھا کہ یہ حکومت کی اجازت کے بغیر تعمیر کی گئی ہے تاہم اس کے بعد مقامی شہریوں نے اس سے بھی زیادہ کشادہ مسجد تعمیر کر لی تھی۔

راتبب الجبور نے بتایا کہ صہیونی حکام نے جب مسجد کا گھیراؤ کیا تو مقامی شہریوں کی بڑی تعداد نے جمع ہو کر قابض فوج کو روکنے کی کوشش کی اور احتجاجی شروع کیا مگر قابض فوجیوں اور پولیس نے مظاہرین پر اشک آور گیس کی شیلنگ کی اور ان پر لاٹھی چارج کر کے انہیں وہاں سے ہٹا دیا۔ انہوں نے کہا کہ یطاء میں تعمیر کی گئی مسجد کے لیے صہیونی انتظامیہ سے پہلے ہی اجازت نامہ حاصل کر لیا گیا تھا، جو ان کے پاس آج بھی موجود ہے لیکن قابض فوجی ان کے اس اجازت نامے کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں۔

ادھر فلسطینی جوڈیشل کونسل کے چیئرمین الشیخ یوسف ادعیس نے بھی صہیونی فوج کے ہاتھوں مسجد کی شہادت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی علاقے میں شہریوں کو ان کے مذہب اور عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق ہے اور کوئی حکومت یا ریاستی ادارہ انہیں عبادات کی ادائی سے منع نہیں کر سکتا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مسجد کی شہادت عالمی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور مذہبی آزادی کے بین الاقوامی معاہدوں کی توہین ہے۔ فلسطینیوں کو اپنے ملک میں اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ الشیخ دعیس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس لے اور مقبوضہ علاقوں میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو لاحق خطرات دور کرانے کے لیے صہیونی حکومت کوعالمی معاہدوں کا پابند بنائے۔